پرتگال نے فٹبال ورلڈ کپ کے سکواڈ کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا تو مینیجر پاؤلو بینیتو کی 30 رکنی ٹیم کی سربراہی رونالڈو کے ہاتھ میں تھمائی گئی۔
تاہم فٹبال ماہرین نے پرتگال کی جیت کے امکانات پر زیادہ توجہ نہیں دی اور وہ دیں بھی کیسے؟ ورلڈکپ میں جہاں سپین، برازیل اور ارجنٹینا کی ٹیمیں شامل ہیں وہاں پرتگال کی جیت کے مواقع بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن اگر ایک منٹ کے لیے سوچا جائے تو ماہرین کی رد کی ہوئی یہی ٹیم 2006 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل، یورو 2008 کے کوارٹر فائنل اور 2012 کے یورو کپ کے سیمی فائنل میں جا پہنچی۔ اور ان سب کامیابیوں میں پرتگالی ٹیم میں رونالڈو کا اہم کردار تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی کھیل یا مقابلے میں سپاہیوں کی سربراہی اور لشکر کی جیت کی ذمہ داری سپہ سالار کے کندھوں پہ ہوتی ہے۔ جیسا فرانس کی 1998 کی ورلڈکپ جیت میں زیدان اور ارجنٹینا کے 1986 کی فتح میں میراڈونا پر تھی اور جیسے عمران خان نے خالی ہاتھوں ایک نوجوان ٹیم کے سہارے پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ کا تحفہ دیا۔
بلکل ایسی تو نھیں لیکن اس سے ملتی جلتی صورتحال کا سامنا یہاں رونالڈو کو بھی ہے۔ رونالڈو کی ٹیم میں پیپے، رکاڈو کوسٹا اور نانی جیسے باصلاحیت کھلاڑی شامل ہیں اور پھر رونالڈو خود ہیں جنھوں نے ورلڈ کوالیفائینگ راؤنڈ میں اکیلے چار گول کر کے سویڈن کے دفاع کی دھجیاں اڑا دیں اور انھیں ورلڈکپ میں شامل نہیں ہونے دیا۔
پرتگال اور رونالڈو کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ ان کا شمار ورلڈ کپ فیورٹز میں نہیں ہوتا، بقول رونالڈو کے یہ اچھی بات اس لیے ہے کہ ان کی ٹیم پر اس حوالے سے دباؤ ہر گز نہیں ہے جس دباؤ کا سامنا سپین کی ٹیم یا لیونل میسی کی ارجینٹائن ٹیم کو ہے۔
ان ساری باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پرتگال کی ورلڈکپ ٹیم میں نئے اور تجربہ کی آمیزش کر کے اسے رونالڈو کی سربراہی میں برازیل کے میدانوں میں اتارا جا رہا ہے۔
پرتگال میں شائقین اور مداحوں کو رونالڈو سے بہت امید ہے، انھیں امید ہے کہ وہ بلآخر پرتگال کا ورلڈ کپ جیتنے کا خواب پورا کرینگے۔
رونالڈ واگر جیت کر آئے تو غازی اور اگر ہار پرتگال کا مقدر ہوئی تو تاریخ کے اوراق میں رونالڈو کے بارے میں یہی لکھا جائے گا کہ وہ جیتا ہوا سپاہی تھا لیکن افسوس ہارے ہوئے لشکر سے تھا۔
رونالڈو اور پرتگال کا ورلڈکپ کا خواب
![]()
وقتِ اشاعت : May 21 – 2014
پرتگال نے فٹبال ورلڈ کپ کے سکواڈ کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا تو مینیجر پاؤلو بینیتو کی 30 رکنی ٹیم کی سربراہی رونالڈو کے ہاتھ میں تھمائی گئی۔
تاہم فٹبال ماہرین نے پرتگال کی جیت کے امکانات پر زیادہ توجہ نہیں دی اور وہ دیں بھی کیسے؟ ورلڈکپ میں جہاں سپین، برازیل اور ارجنٹینا کی ٹیمیں شامل ہیں وہاں پرتگال کی جیت کے مواقع بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن اگر ایک منٹ کے لیے سوچا جائے تو ماہرین کی رد کی ہوئی یہی ٹیم 2006 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل، یورو 2008 کے کوارٹر فائنل اور 2012 کے یورو کپ کے سیمی فائنل میں جا پہنچی۔ اور ان سب کامیابیوں میں پرتگالی ٹیم میں رونالڈو کا اہم کردار تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی کھیل یا مقابلے میں سپاہیوں کی سربراہی اور لشکر کی جیت کی ذمہ داری سپہ سالار کے کندھوں پہ ہوتی ہے۔ جیسا فرانس کی 1998 کی ورلڈکپ جیت میں زیدان اور ارجنٹینا کے 1986 کی فتح میں میراڈونا پر تھی اور جیسے عمران خان نے خالی ہاتھوں ایک نوجوان ٹیم کے سہارے پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ کا تحفہ دیا۔
بلکل ایسی تو نھیں لیکن اس سے ملتی جلتی صورتحال کا سامنا یہاں رونالڈو کو بھی ہے۔ رونالڈو کی ٹیم میں پیپے، رکاڈو کوسٹا اور نانی جیسے باصلاحیت کھلاڑی شامل ہیں اور پھر رونالڈو خود ہیں جنھوں نے ورلڈ کوالیفائینگ راؤنڈ میں اکیلے چار گول کر کے سویڈن کے دفاع کی دھجیاں اڑا دیں اور انھیں ورلڈکپ میں شامل نہیں ہونے دیا۔
پرتگال اور رونالڈو کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ ان کا شمار ورلڈ کپ فیورٹز میں نہیں ہوتا، بقول رونالڈو کے یہ اچھی بات اس لیے ہے کہ ان کی ٹیم پر اس حوالے سے دباؤ ہر گز نہیں ہے جس دباؤ کا سامنا سپین کی ٹیم یا لیونل میسی کی ارجینٹائن ٹیم کو ہے۔
ان ساری باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پرتگال کی ورلڈکپ ٹیم میں نئے اور تجربہ کی آمیزش کر کے اسے رونالڈو کی سربراہی میں برازیل کے میدانوں میں اتارا جا رہا ہے۔
پرتگال میں شائقین اور مداحوں کو رونالڈو سے بہت امید ہے، انھیں امید ہے کہ وہ بلآخر پرتگال کا ورلڈ کپ جیتنے کا خواب پورا کرینگے۔
رونالڈ واگر جیت کر آئے تو غازی اور اگر ہار پرتگال کا مقدر ہوئی تو تاریخ کے اوراق میں رونالڈو کے بارے میں یہی لکھا جائے گا کہ وہ جیتا ہوا سپاہی تھا لیکن افسوس ہارے ہوئے لشکر سے تھا۔