|

وقتِ اشاعت :   September 20 – 2020

مکران ڈویژن میں ڈرگ مافیا کے خلاف چلنے والی تحریک میں سیاسی جماعتوں کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان کی یہ مصلحت پسندی کی سیاست سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس سے قبل رواں سال مئی میں مسلح جتھوں کے خلاف بھی تحریک چلی تھی۔ جس میں بھی سیاسی جماعتوں کا کوئی کردار نہیں تھا۔ وہ صرف اسمبلیوں میں پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کررہے تھے جبکہ عوام بغیر کسی سیاسی قیادت کے سڑکوں پر سراپا احتجاج کررہی تھی۔یہ مصلحت پسندی کی سیاست کب تک چلے گی؟ اتنی بڑی مافیا کا مقابلہ بغیر سیاسی جماعتوں کے کیسے ممکن ہوسکے گا؟ کیوں سیاسی لیڈر شپ خوف میں مبتلا ہیں؟۔

ان کو کس بات کا ڈر ہے؟۔ کیا یہ سیاسی جماعتیں صرف انتخابات کے دوران عوامی مینڈیٹ لینے کی حد تک ہیں؟۔۔ یہ پولٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کب تک چلے گی؟۔ ان سوالات کا جواب سیاسی جماعتوں کے پاس نہیں ہے۔ حالانکہ ان جماعتوں کے بعض علاقائی قیادت ان انسداد منشیات کمیٹیوں میں شامل ہیں۔ لیکن وہ انفرادی طورپر ہیں۔ ان کی پارٹی کی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ اگر پارٹی پالیسی ہوتی تو سیاسی جماعتیں اپنے اپنے پلیٹ فارم سے ریلیاں اور احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کرواتیں۔
ڈرگ مافیا کے خلاف تحریک خود رو انداز میں چل رہی ہے۔

تحریک کی قیادت سیاسی لیڈرشپ کے بجائے سماجی رہنما کررہے ہیں۔ جبکہ منشیات کی لعنت ایک سماجی و معاشرتی برائی کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ اور یہ ایک مکمل انتظامی معاملہ ہے۔ جس میں مبینہ طورپرحکومتی ادارے براہ راست ملوث ہیں۔ ریاست خود ایک سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ ہے۔ اس ڈھانچے میں پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ، فوج وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ڈھانچہ عوامی مینڈیٹ اور ٹیکس سے تشکیل پاتا ہے۔ پارلیمنٹ سپریم باڈی ہوتی ہے۔ جہاں عوامی مینڈیٹ سے کامیاب ہونے والے نمائندے قانون سازی کرتے ہیں۔

اور دیگر ادارے اس پر عملدرآمد کرواتے ہیں۔ اس طرح یہ سرکل مکمل طور پر سیاسی اور انتظامی ہے۔اس ناسور کے خاتمے کے لئے سیاسی جماعتوں کو سیاسی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ ان جماعتوں کے پاس مکمل تنظیمی ڈھانچہ ہے۔ جو بلوچستان، سندھ اور دیگر علاقوں میں موجود ہیں۔ اس مہم کو مکران سے نکال کر ملک گیر مہم بناسکتے ہیں۔ کوئٹہ، خضدار، قلات، کراچی، حیدرآباد، ملتان سمیت دیگر علاقوں میں ریلیاں نکال سکتے ہیں۔ تمام بڑے بڑے شہروں میں قائم پریس کلبوں کے سامنے احتجاج یا سیمینار کا انعقاد کرواسکتے ہیں۔ جہاں ملکی اور بین الاقوامی میڈیا موجود ہے۔

علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی، قومی اسمبلی سمیت سینیٹ میں احتجاج کیا جاسکتا ہے۔ اسمبلیوں کا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی دیگر جماعتوں کو اعتماد لیکر اسمبلیوں کا گھیراؤ کیا جاسکتا ہے۔ ان کے ساتھ ملکر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جاسکتا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ مکران کے عوام کو سڑکوں پر چھوڑدیا گیا۔ ڈرگ مافیا کے خلاف چلنے والی تحریک میں سیاسی جماعتوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سماجی اور فلاحی تنظیمیں ریلیاں اور جلسے نکال رہیں ہیں۔آج بلوچ معاشرے میں منشیات کا فروغ ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت ہورہا ہے۔یہ سازش سیاسی بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔

جس میں حکمران براہ راست شامل ہیں تاکہ بلوچ تعلیم سے دور ہوکر منشیات کی لعنت میں مبتلا ہوں اور وہ اقتدار میں شراکت داری نہ کرسکیں۔ ریاست میں شراکت داری کے لئے ضروری ہے کہ بلوچ نسل کے ہاتھ میں قلم اور کتاب ہو۔ ان کو قلم اور کتاب سے دور رکھا جارہا ہے۔ اس پورے عمل میں ایک سیاسی سوچ ہے۔ وہ سیاسی سوچ سماجی برائیوں کو فروغ دے رہی ہے۔مکران کی سماجی تنظیموں کا منشیات کے خلاف مہم قابل ستائش ہے۔ ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ڈرگ مافیا کا مقابلہ کررہے ہیں۔

شاید مکران میں سیاسی خلاء پیدا ہونے کی وجہ سے سماجی تنظیموں نے جنم لیا۔ سیاسی قیادت کے فقدان کی وجہ سے سماجی قیادت نے جگہ لے لی۔ یہ سیاسی پارٹیوں کی نااہلی اور ناکامی ہے۔ انہوں نے سماجی اور معاشرتی برائیوں سے چشم پوشی کر رکھی ہے۔ عوام کو ڈرگ مافیا اور حکومتی اداروں کے حوالے کردیا، خود اسلام آباد، اور کوئٹہ میں قائم ایوانوں میں مزے لے رہے ہیں۔ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کو خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اے این پی کے دوستوں نے بھی پشتون عوام کو لاوارثوں کی طرح چھوڑدیا تھا۔

وہ ماورائے عدالت قتل کیے جارہے ہیں۔ وزیرستان آپریشن میں لوگ بے گھر ہوگئے۔ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ متاثرین کو معاوضہ نہیں دیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ وہاں بھی ایک محسود تحفظ تحریک کے نام سے چند نوجوانوں نے تحریک کا آغاز کیا جس کو بعدمیں کافی عروج ملا۔ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے اس کا نام “محسود تحفظ تحریک” سے تبدیل کر کے “پشتون تحفظ تحریک” رکھا گیا۔ اے این پی کی لیڈرشپ نے پشتون عوام کو بے یار مدد گار چھوڑ دیا جس کے باعث معاشرے میں سیاسی خلاء پیدا ہوگیا۔ اس سیاسی خلاء کو پر کرنے میں پشتون تحفظ تحریک کی قیادت کامیاب ہوگئی۔

جس کے باعث عوام کی ہمدردیاں اور حمایتیں تحریک کو حاصل ہوگئیں اور تحریک حالیہ عام انتخابات میں کامیاب ہوگئی۔ وہی کہانی آج مکران میں دہرائی جارہی ہے۔ آج مکران کے بے یار مدد گار عوام منشیات فروشوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل چکے ہیں۔ ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک مارچ کیا جارہا ہے۔ مکران کے عوام منشیات فروشوں کے خلاف ایک پیچ پر ہیں جس کی قیادت علاقے کے معتبرین اور بزرگ سماجی رہنما کررہے ہیں۔ تاہم ان تمام لوگوں کا آپس میں رابطہ ہے۔

یہ تمام عمل انفرادی طورپر کیا جارہا ہے۔ انسداد منشیات کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، مہم چلارہی ہیں۔ اپنی مدد آپ کے تحت منشیات کے عادی افراد کا علاج کیا جارہا ہے۔ صرف ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ اور زامران جیسے علاقوں میں تین سے چار سو منشیات کے عادی افراد کو بحالی سینٹرز میں داخل کرادیا گیا۔ اس طرح دیگر علاقوں میں بحالی سینٹرز میں عادی افراد کا علاج جاری ہے۔ یہ تمام عمل کمیونیٹی خود سے کررہی ہے۔ حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ کیونکہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات سمیت دیگر طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ حکومت صرف تماشہ دیکھ رہی ہے۔

اور ان تماش بینوں میں بلوچستان کی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ شاید یہ سیاسی جماعتیں بیوروکریسی اور اداروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتیں۔ انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اداروں کی ناراضی کا مطلب ہے وہ اقتدار حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ وہی ادارے ہیں جو حکومتیں بناتے ہیں اور گراتے ہیں۔اس ڈرا ور خوف کی وجہ سے بلوچستان میں مصلحت پسندی کی سیاست چل رہی ہے لیکن جماعتیں یہ بھول گئی ہیں کہ مصلحت پسندی کی سیاست کرنے سے جماعتیں مستحکم نہیں ہوسکتیں۔ سیاسی قیادت کو فیصلہ کرنا ہوگا انہیں عوام کے ساتھ ہونا پڑے گا یا مافیا اور حکومتی اداروں کے ساتھ ہونا پڑے گا۔ ورنہ ان کی وہی حالت ہوگی۔ جو کل خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی ہوئی ہے ان کی جگہ پشتون تحفظ تحریک نے لے لی۔