کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے دور میں دانستہ طور پر سریاب و گردونواح کو دانستہ طور پر پسماندہ رکھنے کی کوششیں کی جاری کی جا رہی ہیں ترقیاتی فنڈز اور سٹوڈنٹ سکالرشپ میں نسلی بنیادوں پر غیر مستحق طلباء و طالبات میں سکالرشپ کی تقسیم اور اب وزیراعظم کے کوئٹہ پیکج میں سریاب و دیگر بلوچوں علاقوں کی پسماندگی کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جا رہا ہے وزیراعظم پیکج میں بھی ان علاقوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اسی طرح بلدیاتی نمائندوں کے فنڈز کی مساوی تقسیم نہ کرنا اور اپوزیشن کے کونسلران کے فنڈز جو 20لاکھ تک اور حکومتی کونسلران کیلئے 70سے 75لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں جو ناانصافیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے موجودہ حکمرانوں تنگ نظری کی بنیا د پر فنڈز کا اجراء کر رہے ہیں ہونا تو چاہئے کہ فنڈز کو پسماندگی کی بنیادوں پر مختص کیا جاتا لیکن یہ قابل افسوس امر ہے کہ پسماندہ علاقوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا سیاسی بنیادوں پر بلوچوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی روا رکھی جا رہی ہے اسی طرح 2014-15ء کے سکالرشپ میں کوئٹہ کے ایم پی ایز نے جوسکالر شپ تقسیم کئے وہ بھی سیاسی بنیادوں پر کئے گئے اور بلوچ طلباء و طالبات کو نظر انداز کر دیا گیا اور پارٹی بنیادوں پر سکالرشپ تقسیم کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے بلوچستان میں ایسا رویہ اپنائے رکھے ہیں کہ بلوچستان سے پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے تنگ نظری کے بنیاد پر حکومتی امور چلائے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ سریاب جو کوئٹہ کا وسیع و عریض علاقہ ہے اس سمیت کوئٹہ کے دیگر بلوچ علاقوں میں عوام انسانی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں جبکہ ایم پی اے فنڈز اور دیگر ترقیاتی کاموں میں بھی دانستہ طور پر اکثریتی بلوچ علاقوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو مزید برداشت نہیں کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 5ارب روپے کا جو کوئٹہ پیکج دیا اس کو بھی اتحادی جماعتوں کی ملی بھگت سے کرپشن کے نظر کیا جا رہا ہے اقرباء پروری کے ذریعے لوٹ مار کا نیا سلسلہ شروع ہے حالانکہ وزیراعظم پیکج کوئٹہ کے پسماندگی کے خاتمے اور انسانی بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے ہے بلوچ علاقوں کو نظر انداز کرنا قابل مذمت ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس پیکج سے سریاب میں روڈ ، فلائی اوورز ، جدید ہسپتال و سکول اور کھیل کے میدان قائم کئے جاتے میٹروپولیٹن کے ارباب و اختیار اور لوکل گورنمنٹ دانستہ طور پر اس پیکج کو بھی سیاست کی نظر کر رہے ہیں حکومتی ارباب واختیار کو چاہئے کہ وہ سریاب ، بروری اور کوئٹہ کے بلوچ علاقوں کو پیکج میں شامل کریں بلوچوں کو دانستہ طور پر پسماندہ رکھنے کی حکومت نے ٹھان رکھی ہے اس پالیسی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔