|

وقتِ اشاعت :   April 9 – 2016

کوئٹہ :  بلوچ ڈاکٹرزفورم کے مرکزی ترجمان نے گزشتہ روز ینگ ڈاکٹر ایسو سی ایشن بلوچستان کے ڈاکٹرز پر پولیس کر طرف اے لاٹھی چارج گرفتاری اور ڈاکٹروں کی تزلیل کی شدید الفاظ مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر تمام مطالبات تسلیم کرکے ایک جوڈیشل کمیشن بنا کر واقع میں ملوث زمہ دار اہل کاروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کاروائی کی جائے حکومت جو چاہیے کے پولیس کو یہ تربیت دے کہ ان کو عوام کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے اگر ہمارے معاشرے میں پروفیشنلز کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جائے گا تو آپ دنیا کو کیا پیغام دینا چاتے ہیں بلوچستان جو ایک جنگی صورتحال سے گزرہا ہے اور آئے روز ڈاکٹرز کو اغواء4 کرنا قتل کرنا جہاں ایک معمول بن چکا ہے جہاں ہسپتالوں میں سہولیات نہیں ہیں ان تمام حالات کے باوجود ڈاکٹرز اپنی زمہ داری بہترین طریقے کے ساتھ نبھا رہے ہیں اسی کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلکس ہسپتال میں خودکش دھماکے کئیے گئے لیکن ڈاکٹرز نے قربانی دے کر بھی اپنے فرائض سرانجام دئیے جبکہ پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن بلوچستان کے صدر کو دن دہاڑے قتل کیا گیا لیکن حکومت نے اس پر اب تک کچھ نہیں کیا حکومت فیصلہ کرے کہ آیا وہ کیا چاہتی ہے اگر ڈاکٹروں نے مل کر صوبے بھر میں ہرتال کی تو زمہ دار لوگ کئیں منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گیکر ان حالات میں جو ڈاکٹر ڈیوٹی دے رہے ہیں وہ کسی جہاد سے کم نہیں ہے ترجمان پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بلوچستان کے مسیحیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھ رہے اگر یہی سلوک ہم نے رکھا تو پر آپ کیا کریں گے ؟ ترجمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ڈاکٹرز کے مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو اس پر شدید احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں ینگ ڈاکٹرز کے تمام مطالبات فوری طور پر منظور کئیے جایں ۔