لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ انمول کوہ نور ہیرا 1849 میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور راجا رنجیت سنگھ کے درمیان ایک معاہدے کے بعد برطانیہ منتقل کیا گیا تھا۔
کوہ نور ہیرے کی برطانیہ سے پاکستان واپسی کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں ایک سینیئر وکیل کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کی سماعت کے دوران حکومتی وکیل نے بتایا کہ مذکورہ معاہدے کو ‘معاہدہ لاہور’ (Treaty of Lahore) کا نام دیا گیا تھا اور اس ہیرے کو واپس نہیں لایا جاسکتا۔
درخواست گزار بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے حکومتی موقف کی مخالفت کی اور کہا کہ معاہدہ دونوں حکومتوں کے درمیان ہونا چاہیے تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی اس قسم کا معاہدہ کرنے کی مجاز نہیں تھی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے کیس کی سماعت 2 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے حکومتی وکیل کو راجا رنجیت سنگھ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کاپی جمع کرانے کی ہدایت کی۔
درخواست گزار بیرسٹر جعفری نے اپنی پٹیشن میں موقف اختیار کیا تھا کہ انگریز حکمرانوں نے مہاراجا رنجیت سنگھ کے پوتے دلیپ سنگھ سے کوہ نور ہیرا چھینا اور اسے اپنے ساتھ برطانیہ لے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ہیرے کو بعد ازاں 1953 میں ملکہ الزبتھ دوئم کی تاج پوشی کے وقت ان کے تاج کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ملکہ الزبتھ کا کوہِ نور پر کوئی حق نہیں تھا، یہ پنجاب کا ثقافتی ورثہ تھا اور حقیقت میں پنجاب کے شہریوں کی ہی ملکیت ہے۔
انھوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ دولت مشترکہ ممالک کا ایک رکن ہونے کی حیثیت سے حکومت کو ہدایت کرے کہ کوہ نور ہیرے کو واپس پاکستان لایا جائے۔