تہران: ایران کے وزارت خارجہ نے امریکی کانگریس پر الزام لگایا ہے کہ وہ گلف کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے، خصوصاً گلف کی سیکورٹی سے متعلق بدھ کے روز وزارت داخلہ نے سوئس سفارت خانے کو ایک یادداشت روانہ کی ہے جو ایران میں امریکی مفادات کی نگرانی کر رہا ہے، یادداشت میں اس بات کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ایک امریکی کانگریس کے رکن نے اجلاس میں یہ مطالبہ کیاتھا کہ ایران کو گلف کے سمندری حدود میں جنگی مشقوں سے روکا جائے ، ادھر انقلابی گارڈ کے ایک سینئر کمانڈر نے جواباً کہا ہے کہ ایران کے جنگی مشقیں اور تیاریوں کو نہیں روکا جاسکتا ، بلکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ایران کو نہیں روکا جاسکتا نہ ہی ایران پر پابندی لگائی جاسکتی ہے، یہ جنگی مشقیں اس کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں، اسی سے قبل ایران کے روحانی رہنماء آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ گلف اور گلف آف ارمان ایران کا حصہ ہے اور یہاں پر جنگی مشقیں کرنا ہمارا حق ہے ،دریں اثناء ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے نائب کمان دار جنرل حسین سلامی نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اسلامی جمہوریہ کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا تو ان کے لیے آبنائے ہْرمز کو بند کر دیا جائے گا۔جنرل حسین سلامی نے سرکاری ٹیلی ویڑن سے نشر ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ ”امریکیوں کو حالیہ تاریخی سچائیوں سے سبق سیکھنا چاہیے”۔وہ غالباً جنوری میں دس امریکی سیلروں کی ایران کے پانیوں میں گرفتاری کا حوالہ دے رہے تھے۔ان سیلروں کو ایک دن کے بعد ہی رہا کردیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ”اگر امریکی اور ان کے اتحادی آبنائے ہْرمز سے گزرنا چاہتے ہیں اور ہمیں دھمکیاں بھی دیتے ہیں تو ہم کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے”۔انھوں نے مزید کہا کہ ”امریکی دنیا کے کسی حصے کو محفوظ نہیں بنا سکتے ہیں”۔بحرین میں امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کے ترجمان لیفٹیننٹ رک چرنٹزر نے اس دھمکی آمیز بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ ”امریکی سیلروں نے بین الاقوامی قانون اور پیشہ ورانہ میری ٹائم معیارات کے مطابق خلیج فارس کے خطے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ ”ہم چوکس ہیں اور اپنے دفاع کا پیدائشی حق رکھتے ہیں”۔امریکی بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کا قریباً روزانہ ہی ایرانی بحریہ کے جہازوں سے سامنا ہوتا ہے۔جنوری میں ایران کے ایک بغیر پائیلٹ طیارے نے امریکا کے طیارہ بردار جہاز کے بالکل قریب سے پرواز کی تھی۔امریکی بحریہ کے ریکارڈ کے مطابق 2014ء کے بعد اس طرح کا یہ پہلا واقعہ تھا۔امریکا نے دسمبر میں اپنے ایک جنگی بحری جہاز اور تجارتی بحری جہازوں کے نزدیک ایران کے راکٹ کے ایک تجربے پر بھی کڑی تنقید کی تھی اور اس کو انتہائی اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا تھا۔ایران کا اس کے ردعمل میں کہنا تھا کہ اس کو آبنائے ہْرمز اور خلیج میں کہیں بھی فوجی مشقیں کرنے کا حق حاصل ہے۔اس نے فروری 2015ء میں امریکا کے ایک طیارہ بردار جہاز کی ہو بہو نقل کو آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا تھا اور اس کو ڈبو دیا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ وہ ایسے ”خودکش ڈرونز” کا تجربہ کررہا تھا جو جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔