ملک میں بجلی بحران اور لوڈ شیڈنگ پر اب تک کوئی قابو پایا نہیں گیا ہے، بیشتر بڑے شہروں اور دیہاتوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔
عام صارفین، تاجر، کسان سب ہی بجلی کے مسائل سے دوچار ہیں۔
ایک تو بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے اس کے اوپرظلم یہ کہ اوور بلنگ کے ذریعے بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں ۔
بجلی بلوں میں اوور بلنگ ایک گھناؤنا دھندہ بن چکا ہے ، شہر کے بڑے گنجان آبادی والے علاقوں میں بڑی بڑی عمارتیں غیر قانونی طورپر تعمیر کی جاتی ہیں یہی کمپنیاں غیر قانونی کنکشن لگاکر رقم بٹورتی ہیں جبکہ ریگولر بجلی کا بل ادا کرنے والوںکو اوور بلنگ کے ذریعے تنگ کیا جاتا ہے یہ تمام رقم بجلی کمپنیوں کی اہم آفیسران اور ملازمین کی جیبوں میں جاتی ہے ۔
گزشتہ روز بجلی بلوں میں 21 ارب روپے کی اووربلنگ میں ملوث افسران اور ملازمین کو بغیر سزا چھوڑے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی صدارت میں ہوا، چیئرمین نے وزارت خزانہ کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پاور سیکٹر کے ٹاپ 300نادہندگان کی فہرست طلب کر لی۔
کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ 9 بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ڈیفالٹرز سے سینکڑوں ارب روپے کی ریکوری نہ کراسکیں، ڈیفالٹرز سے 877 ارب کی ریکوری نہ کرانے سے متعلق آڈٹ اعتراض زیر غورلایا گیا۔
اجلاس میں بجلی بلوں میں 21 ارب روپے کی اووربلنگ میں ملوث افسران اور ملازمین کو بغیر سزا چھوڑنے کا انکشاف بھی ہوا۔
چیئرمین کمیٹی جنید اکبر نے ہدایت کی کہ ہر مہینے ہمیں بتایا جائے کہ ریکوری کتنی ہوئی ہے، یہ بھی بتایا جائے کہ کتنے افسران کے خلاف ایکشن لیا گیا۔
بہرحال بجلی تقسیم کار کمپنیاںآئی پی پیز گزشتہ کئی دہائیوں سے بجلی کی پیداوار سے زیادہ رقم قومی خزانے سے لے رہی ہیں جو قومی خزانے پربڑا بوجھ ہے، یہ تمام رقم صارفین سے وصول کی جاتی ہے جبکہ مہنگائی اور ٹیکسز کے ذریعے عوام پر سارا بوجھ لادھ دیا گیا ہے۔
مبینہ کرپشن میں ملوث کمپنیوں، آفیسران اور ملازمین پر ہاتھ ڈالا جائے ،نظام میں بہتری لانے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے جائیں اوربجلی کے اوور بلنگ اور لوڈ شیڈنگ سے صارفین کو چھٹکارا دلایا جائے جو پہلے سے ہی مالی مسائل سے دوچار ہیں۔
بجلی بلوں میں اربوں روپے کی کرپشن، ملوث ملزمان قانون کی گرفت سے باہر، صارفین کی مشکلات!

وقتِ اشاعت : 8 hours پہلے
Leave a Reply