کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کل تک عمران خان کو جمہوریت کیلئے خطرہ سمجھتے تھے آج وہ کیسے جمہوریت کے محافظ بن سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ آف شور کمپنیوں کے بانی ہے جنہوں نے کالا دھن رکھنے کے باوجود انیس سو ستاسی میں حکومت سے غربت کے نام پر پلاٹ حاصل کیا۔یہ بات انہوں ںے کوئٹہ میں اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی مولانا عبدالواسع کی رہائشگاہ پر نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا فیض محمد ، اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن و حکومتی جماعتوں کی جانب سے جلسے جلوس تصادم کی صورتحال کو ظاہر نہیں کرتا۔ جلسہ کرنا ہر سیاسی جماعت کا جمہوری آئینی حق ہے۔ جلسے حکومت کے خلاف بھی ہوتے ہیں۔ صوبوں میں بھی مرکز کے خلاف احتجاج ہوتا ہے اور مرکز کوئی مداخلت نہیں کرتا۔ سیاسی جماعتیں عوام کا ووٹ لیکر آتے ہیں اور عوام کے پاس کے سامنے جاکر ہی اپنا مؤقف پیش کرتی ہیں۔ عوامی رائے قائم کرنا کا یہ اچھا وقت ہے۔ سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ وہ اتحادی کی حیثیت سے وزیراعظم کا دفاع کررہے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام مرکز میں وفاق کے اتحادی جماعت ہے اور اس کی پوزیشن بڑی واضح ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس کے بعد پید ہونے والی صورتحال اب بگڑتی ہوئی نہیں بلکہ سنبھلتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اپوزیشن نے چھوٹا موٹا بحران پیدا کیا اور پھر میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا۔ میڈیا خود ٹرائل نہیں کرتا۔ اپوزیشن جب روز روز نئی بات کرتی ہے تو پھر میڈیا ٹرائل بن جاتا ہے۔ لیکن عوام میں کوئی بھونچال نہیں ہے۔ عوام نے اس معاملے کو سرسری لیا ہے۔ پانامہ لیکس کے معاملے کی تحقیقات کیلئے اپوزیشن اپنی بات سے ہٹ گئی تھی۔ وزیراعظم نے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا۔ حکومت ریٹائرڈ ججز کے کمیشن،پارلیمانی کمیٹی، ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات کیلئے تیار تھی لیکن اپوزیشن پیچھے ہٹ گئی۔ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو بھی خط لکھا لیکن اپوزیشن نے قوم کو ٹی آر اوز میں الجھایا۔ اب معاملات سلجھ رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں بات چیت کیلئے تیار ہوگئی ہے تو بات چیت کے ذریعے صورتحال مزید بہتر ہوجائے گی۔ سیاسی معاملات ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ احتساب کا عمل قیام پاکستان سے لیکر اب تک سب کا ہونا چاہیے اور کسی دور کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم احتساب کے عمل کیلئے ادارے اور عدالتیں موجود ہں۔ مکمل تفتیش اور ثبوت عدالتوں میں پیش کئے جاتے ہیں تب۔ عدالت کے ذریعے ہی کوئی ملزم سے مجرم بن سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں خبر کی بنیاد پر ہی کردار کشی شروع کردی جاتی ہے۔ میڈیا جو چاہے جس طرح چاہیے لوگوں کو پیش کرے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ میڈیا کا پروپیگنڈہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ وہ محض خبر دیتا ہے اور خبریں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ جب نئی خبر آتی ہے تو پرانی خبر بھولی ہوئی کہانی بن جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔اصل بات یہ ہے کہ ادارتی اور عدالتی عمل سے گزر کر ہی کسی کو مجرم کہا جاسکتا ہے۔ بلوچستان میں گھروں سے پیسے پکڑے گئے ہیں۔ یہ کوئی سازش تو نہیں تھی اور نہ ہی اس کے پیچھے کوئی صحافی یا میدیا تھا۔ یہ کام اداروں کا ہوتا ہے۔ خبر کی بنیاد پر کسی کی کردار کشی نہیں کرنی چاہیے بلکہ موقع دینا چاہیے کہ وہ اداروں اور عدالتوں کے سامنے پیش ہوکر اپنی صفائی پیش کرے اور یہ سب کا قانونی حق ہے۔