- اسلام یا کوئی اور مذہب چھوڑنے پر عورت قتل نہیں کی جائے گی۔
- باشعور لڑکی کو قبول اسلام کاحق حاصل ہوگا۔
- عورت کے زبردستی تبدیلی مذہب کرانے پر 3 سال سزا ہوگی۔
- عاقلہ، بالغ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر ازخود نکاح کرسکے گی۔
- عورتوں کے غیر محرم افراد کے ساتھ تفریحی دوروں اور آزادانہ میل جول پر پابندی ہوگی۔
- غیرت کے نام پر عورت کے قتل، کاروکاری اور سیاہ کاری کو قتل گردانا جائے گا۔
- ونی یا صلح کے لیے لڑکی کی زبردستی شادی قابل تعزیر جرم ہوگا۔
- عورت کی قرآن پاک سے شادی جرم اور اس کے مرتکب افراد کو 10 سال کی سزا دی جائے گی۔
- تادیب کے لیے شوہر عورت پر ہلکا تشدد کرسکے گا۔
- تادیب سے تجاوزپر عورت شوہر کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔
- بیک وقت تین طلاقیں دینا قابل تعزیر ہوگا۔
- خاتون نرس سے مردوں کی تیمارداری پر پابندی ہوگی۔
- جہیز کے مطالبے اور نمائش پر پابندی ہوگی۔
- آرٹ کے نام پر رقص، موسیقی، مجسمہ سازی کی تعلیم پر پابندی ہوگی۔
- غیر ملکی مہمانوں کے استقبال میں عورتیں شامل نہیں ہوں گی۔
- شوہر اہلیہ کی اجازت کے بغیر نس بندی نہیں کروا سکے گا۔
- حمل کے 120 دن بعد اسقاط کو قتل گردانہ جائے گا۔
- بیرونی صدمے سے اسقاط حمل کا مرتکب دیت کا بیسواں حصہ دینے کا پابند ہوگا۔
- دوران جنگ عورت کو قتل کرنے کا حق نہیں ہوگا۔
- عورت سے زبردستی مشقت لینے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
- تیزاب گردی یا کسی حادثے سے عورت کی موت کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔
- معاشرتی بگاڑ سے متعلق اشتہارات میں عورت کے کام کرنے پر پابندی ہوگی۔
- عورت کو شریعت کے فراہم کردہ تمام حقوق حاصل ہوں گے۔
- عورتوں کو سیاسی عمل میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔
- عورت کو وصیت کرنے اور جج بننے کا حق حاصل ہوگا۔
- عورتیں فوجی، عسکری خدمات میں براہ راست حصہ لینے کی ذمہ دار نہیں ہوں گی۔
- پرائمری کے بعد مخلوط تعلیم پر پابندی ہوگی۔
- حجاب کی اجازت، آزادانہ میل جول پر پابندی پر مخلوط تعلیم کی اجازت ہوگی۔
- عورتو ں کو مالکانہ حقوق حاصل ہوں گے۔
- عورت کو نان نفقہ کی صورت میں خلع لینے کا حق حاصل ہوگا۔
- عورت بچے کو دو سال تک اپنا دودھ پلانے کی پابند ہوگی۔
- ماں کا متبادل دودھ پر مبنی اشتہارات پر پابندی ہوگی۔
تحفظ حقوق نسواں بل:بیوی پرمعمولی تشددکی اجازت
![]()
وقتِ اشاعت : May 26 – 2016