|

وقتِ اشاعت :   October 1 – 2013

barbarکوئٹہ(خ ن) چیف سیکریٹری بلوچستان بابر یعقوب فتح محمد سے انجینئر ان چیف پاکستان لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان نے پیر کے روز یہاں ملاقات کی جس کے دوران بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے علاوہ صوبے میں تعطل کا شکار وفاقی منصوبوں سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ انجینئر ان چیف نے چیف سیکریٹری کو زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کی سرگرمیوں اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر میں بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی، ملاقات میں روڈ اور واٹر سیکٹر میں وفاقی منصوبوں کی پیش رفت ،ان منصوبوں کے لیے فنڈز کے عدم اجراء اور ان کی تکمیل میں حائل دیگر مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ ان کے لیے فنڈز کے اجراء کے حوالے سے فوری طور پر وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا اور ان کی تکمیل میں حائل دیگر رکاوٹوں کو بھی دور کیا جائیگا، چیف سیکریٹری نے اس موقع پر موجود محکمہ مواصلات کے حکام کو ہدایت کی کہ صوبے میں نامکمل وفاقی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ تیار کی جائے، چیف سیکریٹری کی سربراہی میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کے حکام پر مشتمل وفد وفاقی وزیر منصوبہ بندی و پلاننگ کمیشن احسن اقبال سے ملاقات کر کے انہیں بریفنگ دے گا اور ان سے منصوبوں کے لیے فنڈز کے اجراء کی درخواست کی جائے گی۔ اس موقع پر کچھی کینال منصوبے کے بلوچستان میں تعمیر کئے جانے والے حصے پر کام کی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ، واضح رہے کہ چیف سیکریٹری بلوچستان اور انجینئر ان چیف اس وفاقی کمیٹی میں شامل ہیں جو کچھی کینال منصوبے کی مانیٹرنگ کے لیے قائم کی گئی ہے، ملاقات میں پنجگور، آواران روڈ کی تعمیر کے مجوزہ منصوبے پر بھی بات چیت کی گئی ، محکمہ مواصلات کے حکام نے آگاہ کیا کہ ایران کی سرحد سے پنجگور تا آواران شاہراہ اہمیت کی حامل ہے جس کا پی سی ون تیار ہے اگر وفاقی حکومت اس منصوبے کے لیے فنڈز فراہم کرتی ہے تو فوری طور پر اس پر کام کا آغاز کیا جا سکتا ہے، ملاقات میں کوئٹہ واٹر سپلائی اسکیم کے تحت منگی ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کا جائزہ بھی لیا گیا جس پر فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث کام کا آغاز نہیں ہو سکا ہے، منصوبے کی ڈیزائننگ بھی ہو چکی ہے اور ایف ڈبلیو او کو تعمیری کام کا ٹھیکہ بھی دیا جا چکا ہے جبکہ کوئٹہ میں پانی کے مسئلہ کے حل کے لیے منگی ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے، جس سے شہر میں پانی کی25فیصد ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ ملاقات میں گوادر، تربت، ہوشاب، پنجگور، شہداد کوٹ شاہراہ کے زیر تکمیل منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ، اس منصوبے پر بھی فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث کام بند ہے، جبکہ عرصہ دراز سے تعطل کا شکار سبی، رکھنی روڈ کے منصوبے کا جائزہ بھی لیا گیا جس کا صرف 30فیصدکام مکمل ہوا ہے، اس موقع پر بتایا گیا کہ 1986میں این ایل سی نے منصوبے کا آغاز کیا تھا اب تک سبی تاتلی اور رکھنی تا فاضل چل سیکشن مکمل ہو سکے ہیں جبکہ فاضل چل تا تلی سیکشن پر فنڈز کی عدم دستیابی اور امن و امان کی صورتحال کے باعث کام نہیں ہو سکا ہے، یہ شاہراہ بین الصوبائی رابطے اور علاقے کی معاشی ترقی میں اہم کردار کی حامل ہے، اس موقع پر بولان ڈیم کے مجوزہ منصوبے پر بھی غور کیا گیا منصوبے کے لیے فنڈز دستیاب ہیں جبکہ ڈیم کا ڈیزائن تیار ہے اور ایف ڈبلیو او کو اس کا ٹھیکہ بھی دیا جا چکا ہے، انجینئر ان چیف نے یقین دلایا کہ وہ ایف ڈبلیو او سے منصوبے کی بریفنگ لیں گے اور اگر اس کے آغاز میں کوئی رکاوٹ حائل ہے تو اسے دور کیا جائیگا، ڈیم کی تعمیر سے علاقے کی تقریباً 24ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہو سکے گی جس سے زرعی خود کفالت اور معاشی ترقی کے حصول میں مدد ملے گی، انجینئر ان چیف نے بتایا کہ ایف ڈبلیو او بلوچستان میں شعبہ مواصلات اور واٹر سیکٹر سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اس ادارے نے اب تک صوبے میں822کلومیٹر سڑکیں تیار کی ہیں جبکہ 994کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے زیر تکمیل ہیں، ملاقات میں طے پایا کہ صوبائی حکومت کے متعلقہ محکموں اور ایف ڈبلیو او کے درمیان مربوط روابط قائم رکھتے ہوئے صوبے میں وفاقی منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا اور فنڈز کے حصول کی کوشش کی جائے گی جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و پلاننگ کمیشن کو کوئٹہ کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے انہیں وفاقی منصوبوں اور ان کی تکمیل میں حائل مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا جائیگا، چیف سیکریٹری بلوچستان نے بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں دلچسپی لینے اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے معاونت کی فراہم کی یقین دہانی پر انجینئر ان چیف کا شکریہ ادا کیا۔