پشین : پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے اس ملک کی قیام سے لے کر اب تک 2017 کی مردم شماری بشمول کوئی بھی مردم شماری حقائق پر مبنی نہیں کی گئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ پنجاب کی دوسرے اقوام پر بالادستی ہے لہذا پنجاب ہر صورت میں اپنی بالادستی قائم رکھ کر حقیقی مردم شماری نہیں ہونے دیتے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب انتظامی اور اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اداروں میں بھی اپنی بالادستی قائم رکھی ہے اور اسی کے ذریعے موجودہ مردم شماری میں بھی اپنی واضح بالادستی برقرار رکھا گیا ہے تاکہ قومی اسمبلی اپنی اکثریت آدھے سے زیادہ رکھنے ، ملازمتوں ، این ایف سی ایوارڈ یعنی دولت کی تقسیم سمیت ایسے تمام شعبوں میں اپنی مکمل اکثریت بلکہ آدھے سے زیادہ حصہ لینے کے لئے یہ طریقہ کار اپنایا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پشتون بلوچ مشترکہ صوبے میں بلوچوں کی آبادی کو زیادہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ پشتونوں کی آبادی بلوچوں سے زیادہ ہے کم نہیں لہذا اس صوبے میں بلوچوں کی مصنوعی اکثریت کی بنیاد پر صوبائی اسمبلی ، صوبائی کابینہ میں بھی ان کی تعداد زیادہ ہے اور سرکاری سطح پر یہ لوگ مردم شماری کی مخالفت نہیں کریں گے بلکہ حالیہ مردم شماری سے پہلے بلوچوں کی یہ واویلا کہ ان کی مختلف علاقوں سے 7 لاکھ سے لے کر 9 لاکھ تک لوگ آئی ڈیز پیز ہوئے ہیں تو حکومت سمیت ہر ادارے نے کہا کہ اس کو ثابت کیا جائے لیکن وہ کبھی بھی اس بات کو ثابت نہیں کرسکے ۔
انہوں نے کہا کہ کیچ ، تربت ، خضدار اور نصیرآباد کی آبادی کو بالترتیب 9 لاکھ ، 8 لاکھ اور پانچ لاکھ ظاہر کیا گیا ہے جس کا کوئی امکان ہی نہیں اس کے برعکس جنوبی پشتونخوا کے مرکزی شہر جو تمام صوبے کا سب سے بڑا شہر ہے اس کے آبادی کو صرف 22 لاکھ ظاہر کیا گیا ہے حالانکہ محکمہ صحت ، تعلیم سمیت مختلف محکمے اور این ایچ سی آر ، پولیو والے سمیت مختلف ادارے جو سالہا سال سے کوئٹہ میں کام کررہے ہیں وہ ہر پروگرام اور ہر سمینار میں ضلع کوئٹہ کی آباد 30 لاکھ سے زائد بتاتے رہے ہیں یعنی اس طرح ضلع کوئٹہ کو 8 لاکھ سے زائد کی آبادی کو کم دکھایا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ضلع پشین جیسے گھمبیر آبادی والے ضلع کو صرف 7 لاکھ 36 ہزار ظاہر کیا گیا جس میں تل دھرنے کی جگہ نہیں اور ضلع قلعہ عبداللہ کو صرف 7 لاکھ 57 ہزار کیا گیا حالانکہ کوئٹہ کے بعد صوبے کا سب سے بڑا شہر چمن ہے جس کی آبادی خود لاکھوں میں ہے اسی طرح تحصیل چمن ، تحصیل دوبندی ، توبہ اچکزئی ، تحصیل قلعہ عبداللہ ، تحصیل گلستان تا نورک سلیمان خیل انتہائی بڑی آبادی والے علاقے میں اسی طرح ضلع لورالائی جس میں اب نیا ضلع دکی بھی بنا ہے اور ضلع ژوب جیسا بڑا ضلع بالترتیب صرف اورصرف تین لاکھ 97 اور تین لاکھ 10 ہزار کی آبادی کو کس طرح تسلیم کیا جائے ۔
اسی طرح جہاں لوگ شہروں کا رخ کرتے ہیں اور ان کی آبادی بڑھ رہی ہے لہذا صوبے کے ہر گاؤں سے لوگ کوئٹہ شہر میں آکر رہائش اختیار کررہے ہیں جس طرح لاہور اور کراچی کی آبادی بڑھ رہی ہے لیکن کوئٹہ شہر کی آبادی اضافہ ریشو صرف 6 فیصد دکھایا گیا ہے ۔
اس کے برعکس کوہلو اور چاغی میں چار فیصد اضافہ اور تربیت کیچ میں 4.23 فیصد اضافہ کیسے ممکن ہوا ہے اور اس کے برعکس ہرنائی ایک 1.26 ، موسیٰ خیل 1.16 اور اسی طرح سبی کی حالت ہے جو قابل قبول نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع کی آبادی کو مخصوص طریقے کے ساتھ کم ظاہر کیا گیا ہے اور بلوچ علاقوں کے آبادی کو زیادہ ظاہر کیا گیا ہے ۔
جو مردم شماری کے موجودہ حساب اس کے ریشو اور ان تمام اضلاع کے حقیقی صورتحال کے برعکس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے محکوم قوموں ان کے سیاسی جمہوری قوتوں اور پشتونخوا وطن کے غیور عوام میں اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے متحد ہو کر آواز بلند کرنا ہوگا ۔
مردم شماری کے نتائج حقائق پر مبنی ہیں ،عثمان کاکڑ
![]()
وقتِ اشاعت : September 1 – 2017