اسلام آباد : گوادر شہر اور ملحقہ علاقوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ پانی کی موجودہ طلب 8.3 ملین گیلن جبکہ سپلائی 3.5 ملین گیلن روزانہ کی جا رہی ہے اور یہ بحران خشک سالی میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے ۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق دریائے اکڑا کے بارشی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے سال 1995 میں اکڑا کوڑ ڈیم مکمل کیا گیا تھا۔
اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 17 ہزار ایکڑ فٹ تھی اور اس نے 20 سال کے عرصے کے لئے کارآمد رہنا تھا اور اب اس کو پیتے ہوئے 22 سال گزر گئے ہیں۔
اس پراجیکٹ کا مقصد گوادر ٹاؤن ‘ جیوانی ‘ پاشکان ‘ پاپری نگور اور مضافاتی علاقوں کو پینے کا پانی فراہم کرنا تھا لیکن اب اس ڈیم میں مٹی بھر جانے سے اس کے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہو کر 6500 فٹ ایکڑ رہ گئی ہے ۔
وفاقی حکومت کی مالی معاونت سے بلوچستان حکومت نے ضلع گوادر حالیہ شادی کوڑ ڈیم تعمیر کیا جس پر 7 ارب 93 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت آئی ہے اس میں 37 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا اس ڈیم سے گوادر شہر کو 12 ملین گیلن پانی روزانہ فراہم کیا جا سکے گا اس ڈیم میں بارشیں کم ہونے کی وجہ سے 12 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوا ہے ۔
دستاویزات کے مطابق میرانی ڈیم کا مقصد زرعی زمین کو سیراب کرنا ہے اور دریا کے ساحلوں پر اپنے راستوں کو گھریلواستعمال کے لئے پانی فراہم کرنا ہے اس منصوبے سے قابل کاشت رقبہ کلچر ایبل کمانڈ ایریا 33 ہزار 2 سو ایکڑ ہے جس میں سے 2400 ایکڑ دریائے دشت کے بائیں کنارے اور 20 ہزار 800 ایکڑ دائیں کنارے پر واقع ہے ۔