احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی ضمانت منظور کرلی۔
مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر پہلی مرتبہ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی۔
عدالت نے مریم نواز کو نیب حکام کی جانب سے دائر ریفرنسز کی کاپی بھی فراہم کر دی اور اس کے ساتھ ہی انہیں 50 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔
بعد ازاں عدالت نے مریم نواز اور ان کے شوہر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر کو رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔
واضح رہے کہ مریم نواز اپنے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے ہمراہ آج (9 اکتوبر) صبح ہی قطر ایئرویز کی پرواز کے ذریعے لندن سے اسلام آباد پہنچی تھیں جہاں پہلے سے موجود نیب حکام نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا تھا جبکہ مریم نواز کو جانے کی اجازت دے دی تھی۔
کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو نیب حکام اپنے ساتھ بے نظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد لے گئے تھے جہاں ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا اور بعدازاں طبی معائنے کے بعد احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔
خیال کیا جارہا تھا کہ مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب حکام کی جانب سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں فردِ جرم عائد کی جا سکتی ہے تاہم ایسا نہیں ہوا۔
دوسری جانب احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر بھی فیصلہ محفوظ کر لیا۔
پاکستان آمد سے قبل لندن میں اپنی رہائش گاہ سے ایئرپورٹ روانگی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’جب کسی کا دامن صاف ہوتا ہے تو وہ عدالتوں سے گھبراتا نہیں ہے، ہم صرف عدالتوں میں پیش ہونے کے لیے ہی پاکستان واپس جارہے ہیں‘۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے رواں ماہ 2 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف عدالت میں پیش نہ ہونے پر ناقابلِ ضمانت وارنٹ جبکہ مریم نواز کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔