کوئٹہ: بلوچستان کی صحافتی تنظیموں کے قائدین نے کہا ہے کہ بلوچستان میں صحافی ایک بار پھر شدید مشکلات اور تشویشناک صورتحال سے دو چار ہیں،میڈیا کو سنگین دھمکیوں سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے اے پی این ایس ،سی پی این ای اور پی بی اے بھی اپنا کردار ادا کریں۔
صوابی میں صحافی ہارون خان کا قتل قابل مذمت ہے ان کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے ،کوہلو میں صحافیوں کے خلاف پولیس کی جانب سے منفی ہتھکنڈے اور پریس کلب کی بندش ناقابل برداشت ہے اگر کوہلو کے حوالے سے مسئلہ تین دن کے اندر حل نہ ہوا تو آئی جی پولیس کے دفتر کے سامنے مظاہر ہ کیا جائے گا ۔
یہ بات بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر خلیل احمد اور کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضاء الرحمٰن نے ہفتہ کو بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام بلوچستان میں بعض علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے میڈیا کو سنگین دھمکیوں سے پیدا شدہ صورتحال، صوابی میں صحافی ہارون خان کے قتل اور کوہلو میں صحافیوں کے خلاف پولیس کی جانب سے بلاجواز انتقامی کارروائیوں و کوہلو پریس کلب کی بندش کے حوالے سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر مظاہرئے کے شرکا نے پلے کارڈ اور بینر بھی اٹھا رکھے تھے اور نعرئے بازی بھی کررہے تھے، مقررین نے کہا کہ اگر چہ بلوچستان کے صحافی عرصہ دراز سے شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اب تک چالیس سے زائد صحافی اپنی جانوں کے نذرانہ بھی پیش کرچکے ہیں لیکن ایک بار پھر بلوچستان میں صحافیوں پر برا وقت آیا ہے۔
بلوچستان کے صحافیوں نے ہمیشہ اپنے فرائض مکمل طور پر غیر جانبداری سے انجام دےئے ہیں اور اس کیلئے وہ بڑی قربانیاں بھی دے چکے ہیں،بلوچستان میں میڈیا کو بعض علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے سنگین نوعیت کی دھمکیوں کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔
اس صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام صحافتی تنظیمیں بھر پور اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کا مقابلہ کریں، ایسے میں جہاں صحافتی تنظیمیں اپنا کردار ادا کررہی ہیں وہاں ضروری ہے اے پی این ایس، سی پی این ای اور پی بی اے کے رہنما بھی کوئٹہ آکر اس صورتحال میں ہمارا ساتھ دیں۔
ہم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی قیادت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال میں یہاں آکر ہمارے ساتھ جدوجہد میں شامل ہو، مقررین نے صوابی میں صحافی ہارون خان کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پورے ملک میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ہارون خان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزادی جائے، مقررین نے گزشتہ کئی روز سے کوہلو پریس کلب کی بندش، صحافیوں کے خلاف کوہلو پولیس کی جانب سے منفی ہتھکنڈوں، انتقامی کارروائیوں، صحافیوں کے رشتہ داروں کے خلاف مقدمات کے اندراج کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ناقابل برداشت ہے جس پر خاموش نہیں رہینگے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ قابل مذمت امر یہ ہے کہ کوہلو کے صحافی کئی روز سے سراپا احتجاج ہیں، مگر اب تک صوبائی حکومت ،محکمہ داخلہ اور پولیس حکام کی جانب سے اس کا نوٹس تک نہیں لیا گیا ۔
اگر تین دن کے اندر صورتحال کا نوٹس لے کر کوہلو کے صحافیوں کے مسائل حل نہ کئے گئے تو آئی جی پولیس کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس صورتحال میں کوہلو کے صحافی تنہا نہیں ہم ان کے ساتھ ہیں اور صوبے میں جہاں بھی صحافیوں کو کوئی بھی مشکل در پیش آئی تو ہم ان کا بھر پور ساتھ دینگے۔