|

وقتِ اشاعت :   October 17 – 2017

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں بلوچستان ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں ، جعل سازیوں پر کسی بھی وفاقی ، صوبائی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے نوٹس نہ لینے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر ایک جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنا کر تمام معاملات کی تحقیقات کر کے رپورٹ پبلک کی جائے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وزیر تعلیم نے جب سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے محکمہ تعلیم میں میرٹ ، حق و انصاف کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں محکمہ کو پارٹی ورکرز اور جونیئر پارٹی افسران کے ذریعے مل کر اس کو تباہی سے دوچار کیا جا رہا ہے اس کی ایک چھوٹی سی مثال موصوف کی بیٹی ہے جو نجی سکول میں نویں جماعت کی طالبہ تھی فیل ہونے پر اس کو گرلز ہائی سکول کواس زیارت میں داخلہ دلوایا گیا جہاں اس نے میٹرک 2017ء کے امتحانات میں 1000کے قریب نمبر لئے پھر بھی جب ان کو یہ نمبر بھی کم محسوس ہوئے تو انہوں نے بورڈ میں اپنے آلہ کار چیئرمین اور کنٹرولر بورڈ کے ذریعے ری کاؤنٹنگ کے نام پر مزید نمبر حاصل کئے یہ سارا عمل غیر قانونیا ور اقرباء پروری پر مبنی تھا ۔

اس سے قبل سینٹر کی تبدیلی کے حوالے سے بھی قانونی لوازمات تو کیا اس کیلئے فیس تک ادا نہیں کی گئی قبل ازیں وزیر موصوف کے قریبی رشتہ دار جو زیارت میں ایک ٹیچرز ہیں اور دراصل وہی محکمہ کے اصل وزیر اور کرتا دھرتا ہیں اس نے اپنی بیٹی کو میٹرک 2016ء کے امتحانات میں ری کاؤنٹنگ کے نام پر اضافی نام لے کر ان کے نمبروں کو بڑھا دیا اس سارے گھناؤنے عمل کا مقصد یہی تھا کہ ان دونوں طالبات کو لاہور کے ایک کالج میں بلوچستان کی مختص نشستوں پر داخلہ دلوایا جائے اور ایسا کیا بھی گیا حالانکہ اس کیلئے ایک طریقہ کار بھی موجود ہے ۔

اس مجرمانہ عمل کے ذریعے بلوچستان کے لاکھوں طالب علموں کے حق پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا گیا لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی ادارے یا کسی انفرادی شخصیت نے اس کا نوٹس تک نہیں لیا بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بورڈ کے عہدیدار وزیر موصوف کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور حالیہ دنوں میں بورڈ میں این ٹی ایس کے ذریعے جو بھرتیاں ہونی تھیں ان کو منسوخ کر کے اب ایک نام نہاد کمیٹی کے ذریعے ان خالی آسامیوں کو پر کیا جائے گا بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر اس عمل کو روک دیا جائے اور تمام بھرتیاں کسی غیر جانبدار ٹیسٹنگ ادارے کے ذریعے کروائی جائیں ۔

چیئرمین اور کنٹرولر بورڈ کو فوری طور پر ان کے مناصب سے ہٹا کر ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں بورڈ کے افسران کی کرپشن ، بددیانتی اور وزیر کے غیر قانونی احکامات کو ماننے کی وجہ سے نہ صرف بلوچستان کے طلباء ان کے والدین بلکہ ایک عام آدمی کا ان اداروں سے اعتماد اٹھ جائیگا بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر تمام شعبوں میں پوسٹٹنگ ، ٹرانسفر کی باقاعدہ خرید جاری ہے ۔

گزشتہ دو سالوں میں چار سیکرٹریوں کو فارغ کر دیا گیا اور پانچویں سیکرٹری کو بھی فارغ کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بورڈ آف کیروکولم ، بلوچستان ٹیکسٹ بورڈ اور ڈائریکٹریٹ سکولز میں گزشتہ ڈیڑھ سالوں سے کسی مستقل افسر کی تعیناتی کی بجائے ایڈیشنل بنیادوں پر ان کو من پسند پارٹی کارکنوں اور جونیئر افسر کے ذریعے چلایا جا رہا ہے تاکہ مال بنایا جائے سکے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ محکمہ تعلیم میں ایمر جنسی کے نام پر جاری کرپشن خرید و فروخت کے خاتمے تک آواز بلند کی جاتی رہے گی ۔