|

وقتِ اشاعت :   October 22 – 2017

کوئٹہ :  بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ ، سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے اپنے مشترکہ مذمتی بیان میں خاران کے سابق صدر و ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر حاجی غلام حسین بلوچ کے گھر پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے روایات کے منافی اقدام اور بزدلانہ فعل قرار دیا بلوچستان میں چادر و چار دیواری کا احترام کیا جاتا ہے ۔

بلوچستان کے مثبت روایات میں ایسے اقدامات بہت ہی کم دیکھنے کو ملے ہیں چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کے اقدامات کسی صورت قابل برداشت نہیں حاجی غلام حسین بلوچ کے گھر پر فائرنگ کر کے خواتین و بچوں کو زخمی کرنے کا عمل قابل نفرت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بی این پی بلوچستان بھر میں ایسی سیاسی قوت بن چکی ہے عوامی پذیرائی بھی ہمیں حاصل ہے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو چکا ہے

ہماری سیاسی جہد عوام کے لئے ہیں پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کے حوصلے ایسے اقدامات سے پست نہیں ہوں گے ۔

اس سے قبل بھی پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا گیا اس کے باوجود پارٹی کو دیوار سے نہیں لگایا جا سکتا انہوں نے کہا کہ فوری طور پر تحقیقات کر کے واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہو سکیں ۔

دریں اثناء پارٹی کی جانب سے غلام حسین کے گھر پر حملے کیخلاف احتجاجی شیڈول کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق 23 اکتوبر کو نوشکی ، چاغی ، خاران ، واشک ، 25 اکتوبر کو مستونگ ، قلات ، خضدار ، آواران ، لسبیلہ ، 28اکتوبر کو پنجگور ، تربت ، گوادر ، 30 اکتوبر کو کچھی بولان ، سبی ، نصیر آباد ، جھل مگسی ، جعفر آباد ، صحبت پور ، جیکب آباد ، شہداد کوٹ ، 2 نومبر کو ہرنائی ، لورالائی ، موسیٰ خیل ، ڈیرہ غازی خان ، کوہلو ، دکی ، تونسہ شریف ، 4نومبر کو کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ۔

پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس واقعے کے شیڈول کے مطابق احتجاج ریکارڈ کر کے سیاسی و جمہوری کردار ادا کریں ۔