نوشکی: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے پارٹی سیکرٹریٹ میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان نیشنل پارٹی قومی وجمہوری پارٹی ہے ہماری کوشش ہے کہ بلوچوں کے جوجملہ مسائل ہے اور بلوچوں کی اجتماعی مفادات ہے انکی ترجمانی کریں ۔
2018 ء کے الیکشن میں بحیثیت سیاسی وقومی جمہوری پارٹی ہم بھرپور تیاریاں کررہے ہیں اس حوالے سے مختلف اضلاع میں آرگنائزنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہے پارٹی کو بھی سیاسی حوالے سے مضبوط ومنظم بنانے کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں انتخابات میں پارٹی بھرپور کامیابی حاصل کریگی ہمیں قومی امکان ہے کہ جسطرح الیکشن 2013 ء میں بلوچوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی کو سب سے بڑی پارٹی گردانا پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیکر ثابت کردیا کہ اکیسویں صدی میں بلوچ قوم کے فرزندباشعور ہیں اور اچھے وبرے کے تمیز کرسکتے ہیں ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچوں کے نجات دہندہ پارٹی ہے حالانکہ پارٹی کے رہنماؤں شہید حبیب جالب ،شہید میر نوردین مینگل سمیت سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں کو شہید کیا گیاتاکہ پارٹی قیادت اور کارکنوں کے حوصلے پست ہولیکن اس حوالے سے انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا پارٹی آج بھی بلوچستان میں سب سے بڑی سیاسی قوت ہیں اور عوامی پذیرائی بھی بی این پی کو حاصل ہے ۔
بلوچستا ن نیشنل پارٹی اصولوں کی سیاست کرتی ہے ہمارے قیادت کے سامنے بلوچوں کے جملہ مفادات اہمیت کے حامل ہے اس حوالے سے گوادر میگاپراجیکٹ سی پیک کے حوالے سے بی این پی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرائی اس کے بعد اہل قلم دانشوروں ،صحافیوں کو بھی سیمینار میں مدعوکیاگیا جنھوں نے ہمارے موقف کو درست تسلیم کیا پارٹی ترقی اور خوشحالی کی مخالفت نہیں کرتی کیونکہ ہم قومی وجمہوری جماعت ہے ۔
عوام کے امنگوں کے مطابق سیاست کرتے ہیں بلوچوں کے جو گوادر کے متعلق خدشات وتحفظات ہے انکو دورکرنا حکمرانوں کی اولین زمہ داری ہے یہ کسی طرح بھی انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق نہیں کہ گوادر کے بلوچ پانی کے بوندبوند کو ترس رہے ہیں اور گوادر پورٹ کے اختیار بلوچستان کو دی جائے اس حوالے سے یہ ہمارا آئینی حق بھی ہے اٹھارویں ترمیم کے بعد بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں ۔
اسی طرح جو بنیادی مسائل ہے گوادر ،تعلیم، صحت ، انفراسٹریکچر کے حوالے سے بھی ہمارے بلوچ عوام کسمپرسی کے زندگی گزاررہے ہیں سی پیک میں اولیت بلوچستان کے بلوچوں کو دی جائے ہمارے سرزمین پر ہماری حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے چھوٹے بڑے آسامیوں پر ہمارے نوجوانوں کو ترجیح دی جائے اور بلوچستا ن میں جدید یونیورسٹیز ،کالجز اور ہسپتال بنائے جائے ۔
انکے بعد تاکہ لوگوں کو یقین ہو کہ سی پیک ایک بڑا پروجیکٹ ہے بلوچ اس سے مستفید ہونگے ایسا نہ ہو ماضی میں جسطرح تیل وگیس بلوچستان کے قدرتی وسائل کو لوٹا گیا جس سے آج بھی بلوچستان کے عوام معاشی بدحالی اور تنگدستی کا شکار ہے ماضی کے روایات اچھی نہیں رہے ۔
اس سے بہتر ہونی چاہیے عوام کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھا جائے مردم شماری میں پارٹی کا جو اصولی موقف تھا ہم سمجھتے ہیں کہ افغان مہاجرین سے متعلق جو عوام میں شعور اجاگر کیا اس کے بدولت قانونی جنگ بھی لڑیں ہم نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بھی گئے تاکہ ہمارے خدشات اور تحفظات کو آئینی طور پر دورکیا جاسکیں ۔
اس میں ہمیں کامیابی مل گئی افغان مہاجرین سے متعلق بی این پی کا موقف ہمیشہ واضع رہا ہے پارٹی نے ہزاروں سالوں پر محیط بلوچوں کے قومی شناخت کو بچایا ہے اور اپنی قومی زمہ داری پوری کی ہے موجودہ حکمران جو مڈل کلاس کے باتیں کرتے ہیں ۔
انھوں نے لوٹ مار،کرپشن ،اقرباء پروری یہاں تک کہ ایک تنگ نظر شاؤنسٹ جماعت اس کے سامنے بے بس ہوکر بلوچ مفادات کو ٹھیس پہنچائے مردم شماری میں ان اتنی سیاسی اخلاقی جرت نہیں تھی کہ وہ افغان مہاجرین کو افغان مہاجرین کہے بلکہ انھوں نے افغان مہاجرین سے متعلق غیر ملکی کا اصطلاع استعمال کرکے لوگوں کو کنفیوز کیا انکا نعرہ ابہام پر مشتمل تھا بلوچستان نیشنل پارٹی عدالت عظمٰی میں 2012 ء میں سردار اختر جان مینگل کے سربراہی میں چھ نکات کے حوالے سے آواز بلند کیا۔
یقنا پارٹی کے سامنے بلوچستان کے جو بحرانی حالت میں پارٹی کے موقف واضع اور ثابت قدم رہی ہے اسی وجہ سے ہمیں عوامی پذیرائی ملی ہے انہوں نے کہاکہ نوشکی اور چاغی کے سیاسی اور جغرافیائی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے ۔
مگر آج بھی اس سرزمین کے باسی بے روزگاری ،غربت ،افلاس اور دیگر سماجی مشکلات کا شکار ہے یہاں تک کہ حکمران تعلیم اور صحت کے حوالے سے بلند وبانگ دعوے کرتے ہیں لیکن عملا تعلیمی ایمرجنسی لگانے کے والے پچھلے 9 ماہ سے بلوچستان یونیورسٹی میں مختلف طلباء تنظیمیں سراپا احتجاج ہے ۔
حکمرانوں میں اتنی سکت نہیں کہ وہ ایک یونیورسٹی کے معاملات کو حل کرسکیں تو وہ کیا تعلیمی انقلاب برپا کریں گے انہوں نے کہاکہ اسی طرح خسرے کی وباء جو نوشکی میں پھیلا ہوا ہے اس حوالے سے حکومت نے ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے صرف طفل ء تسلی اور جھوٹے دعوؤں کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ بی این پی الیکشن 2018 ء میں بھرپور حصہ لیکر عوامی مینڈیٹ حاصل کریگی اگر ایک بار پھر بی این پی کے مینڈیٹ کو چرانے کی کوشش کی گئی تو اس کی تمام تر زمہ داریاں انہیں اداروں پر ہوگی جو اس سے قبل بھی عوامی مینڈیٹ کو چرائے ہیں اگر انتخابات صاف وشفاف ہوئے تو بلوچستان کے اکثریتی علاقوں سے بی این پی کے امیدوار کامیاب ہونگے ۔
عوام ایک بار پھر ہمیں مینڈیٹ دیکر بحثیت پولیٹیکل ورکر زپارٹی خدمت کا موقع دیگی اگر دھاندلی کی گئی تو بلوچستا ن کے عوام کا اعتماد جمہوریت اور انتخابات سے اٹھ جائے گا جس کی زمہ دار ناعاقبت اندیش حکمران ہونگے جو اپنے زاتی مفاد کی خاطر جمہوری اداروں کے استحکام نہیں چاہتے ۔
انہوں نے کہاکہ محکمہ صحت میں میرٹ کے خلاف تعیناتی کرکے ایک بار پھر میرٹ کی دھجیاں اڑاتے رہے حقدار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مایوس کیا گیا اور حکمرانوں نے ثابت کردیا کہ انکے عزائم آج بھی لوٹ مار ،کرپشن اور اقرباء پروری پر مبنی ہے ۔
پارٹی نے الیکشن کی تیاریاں شروع کردیں ہے کارکن جدوجہد تیز کریں، بی این پی
![]()
وقتِ اشاعت : October 23 – 2017