|

وقتِ اشاعت :   October 26 – 2017

کوئٹہ: چیئرمین عبدالمجید خان اچکزئی کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اراکین صوبائی اسمبلی یاسمین لہڑی، انیتہ عرفان، اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان، ڈی جی آڈٹ بلوچستان، سیکریٹری زراعت، نمائندے، ایس اینڈ جے اے ڈی، محکمہ مائنز اینڈ منرل، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ 

اجلاس میں سیندک پروجیکٹ معاہدہ زیر غور آیا اور فیصلہ کیا گیا کہ سیندک پروجیکٹ میں بلوچستان کا جو حصہ مختص ہوا ہے اس کی مد میں بلوچستان حکومت کو ملنے والی رقم کی تمام تر تفصیلات اور دستاویزات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی تاکہ اس پر غوروخوض کیا جائے۔ سول سیکریٹریٹ کے تحت چلنے والی بسوں کا معاملہ بھی کمیٹی میں زیر غور آیا اور فیصلہ ہوا کہ ان بسوں کو استعمال کرنے والے ملازمین سے یا تو کنوینس الاؤنس کی کٹوتی کی جائے یا پھر مہینے میں ایک مخصوص رقم لی جائے۔ 

وزراء کے زیراستعمال گاڑیوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا، تمام محکموں سے گاڑیوں کی تعداد اور ان کی الاٹمنٹ اور وزراء کے زیراستعمال گاڑیوں کی تمام تر تفصیلات او رکوائف کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس کے علاوہ پنجگور میں کھجور کو لگنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لئے خریدی گئی مشینری کا آڈٹ ریکارڈ محکمہ کو فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین مجید خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سرکاری پیٹرول ڈیزل کا جس طرح بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے اس کی ہم کسی بھی صورت اجازت نہیں دینگے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اس کی روک تھام کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور اگر بے ضابطگی پائی گئی تو تحقیقات کرینگے محکمہ زراعت نے جو بلڈوزر خریدے ہے وہ کام کرنے کے قابل نہیں ہے اور جس طرح بلڈوزر پر کروڑوں روپے خرچ کئے ہیں اس کی تحقیقات کی جائے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اور محکمہ زراعت سے متعلقہ اجلاسوں کے بعد میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے یہاں حکومت کی جانب سے عوامی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی اور جہاں دیکھے ہر کوئی کرپشن کرنے میں مصروف ہے اور جب تک ہم کرپشن کا خاتمہ نہیں کر تے اس وقت تک مسائل حل نہیں ہونگے کرپشن ہی تمام برائیوں کا جڑ ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ صوبے کو ٹھیک کرنے کا وقت آگیا ہے مگر جو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ان کو نہیں بخشا جائیگا ہر سال فیول کی مد میں کروڑوں روپے دیئے جا تے ہیں مگراس کا صحیح معنوں میں استعمال نہیں کیا جاتااور جو گاڑیاں وزراء اور آفیسران کے زیر استعمال ہے وہ استعمال ہونے کے بعد نہ تو ان کی نیلامی کی جاتی ہے بلکہ ان کو ایک منصوبے کے تحت ناکارہ بنا کر انہی گاڑیوں پر ہر سال مرمت اور فیول کی مد میں کروڑوں روپے کرپشن کی نذر ہو تی ہے جس کی ہم کسی بھی صورت اجازت نہیں دینگے ۔

اس وقت پولیس لائن اور دیگر سرکاری دفاتر میں سات ہزار کی قریب گاڑیاں کھڑی ہے جو کہ ناکارہ ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود ان گاڑیوں کے نام پر گاڑیوں کی مرمت کے نام پر پیسے اور فیول کے نام پر کروڑوں روپے وصول کئے جا تے ہیں کوئی پو چھنے والا نہیں ہے اب وقت آگیا ہے کہ ان کی تحقیقات ہو کیونکہ ہم نہ تو خود کرپشن کر تے ہیں اور نہ دوسروں کو کرپشن کرنے کی اجازت دینگے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ 2005 میں پنجگور میں کجھور کی درختوں پر لاکھوں روپے لئے گئے مگر وہاں تو نہ اسپرے کئے گئے اور نہ ہی اس حوالے سے زمینداروں اور کسان کو کوئی فائدہ پہنچا جو مشینری دی گئی ہے ان کی تحقیقات ہونی چا ہئے اور اس حوالے سے ایک ہفتے کے اندر اندر رپورٹ دی جائے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ20 سال قبل جو بلڈوزر خریدے گئے ہیں وہ بلڈوزر اب کرنے کے قابل نہیں ہے اور جو بلڈوزر خریدے گئے ہیں ان کی تحقیقات ہونی چا ہئے کہ ان پر کتنے پیسے خرچ کئے گئے ہیں صوبے کا 80 فیصد انحصار زراعت پر ہے لیکن محکمہ زراعت کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے اور19 ہزار ملازمین کے ہوتے ہوئے کوئی بھی پروجیکٹ نہیں اور نہ ہی محکمہ زراعت کے پاس پلانٹ اور نرسری ہے اگر یہی صورتحال رہی تو مستقبل میں زراعت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہو جائیگا۔