|

وقتِ اشاعت :   October 28 – 2017

کوئٹہ: گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان اپنے وسیع رقبے اور غیرمعمولی وسائل کے باعث پاکستان کی معیشت میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے حالات کی وجہ سے ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے میں مشکلات حائل تھیں تاہم اس سلسلے میں گذشتہ چار برسوں کے دوران اٹھائے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں اور صوبے کے حالات میں بہتری آئی ہے اور قوامی شاہراہوں کو پہلے کے مقابلے میں محفوظ پایا گیا ہے جو خوش آئند ہے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے نیشنل مینجمنٹ کورس پشاور کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جو ان دنوں بلوچستان کے مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے انہیں بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت، جاری ترقیاتی عمل، امن وامان کی صورتحال اور متعلقہ موضوعات پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

انہوں نے اس موقع پر شرکاء کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب بھی دیئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سی پیک کے تحت غیرمعمولی ترقیاتی عمل جاری ہے اور ہمیں یقین ہے کہ سی پیک ہمارے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نئے ترقیاتی اقدامات کو بارآوار اور مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ افہام وتفہیم کے بہتر ماحول کو فروغ دیا جائے اور لوگوں میں احساس محرومی کو دور کرکے ان کے اعتماد میں اضافہ کیا جائے۔

گورنر نے کہا کہ بلوچستان کو بجلی کی فراہمی میں اس کا جائز حصہ مل جائے تو کم از کم صوبے میں توانائی کا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے فرقہ واریت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ معاشرے میں رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں حکومت ہر ممکن اقدام کررہی ہے تاہم مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کو اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پشتون اور بلوچ روایات بھائی چارہ اور رواداری پر مبنی ہیں اور یہ قومیں دوستی اور دشمنی کے لئے عقائد یا مسلک کو معیار تصور نہیں کرتیں اور دیگر اقوام اور اقلیتوں کے ساتھ عرصے سے مل جل کر زندگی گزاررہی ہیں۔ آخر میں گورنر بلوچستان اور مہمانوں کے درمیان یادگاری شیلڈز کا تبادلہ کیا گیا۔