کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن غلام نبی مری نے اپنے جاری کر دہ ایک بیان میں موجودہ صوبائی حکومت میں شامل صوبائی وزراء کی جانب سے ضلع کوہلو میں پارٹی کے کارکنوں کے خلاف جاری روا رکھے گئے انتقامی کارروائیوں ، تنگ کرنے اور دیوار سے لگانے کی پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کی مقبولیت ، عوامی پذیرائی میں آئے روز اضافہ ہونے کی رد عمل سے حکمران بوکھلاہٹ کے شکار ہو کر غیر سیاسی وغیر جمہوری انداز میں پارٹی کے نہتے کارکنوں کو تنگ کرنے میں مصروف ہے لیکن ہم حکمرانوں کی توجہ دلانا چا ہتے ہیں کہ انہوں نے جس اندازمیں کرپشن کی بازار گرم کر رکھا ہے ۔
بلوچستان کے دولت جس بے دردی سے لوٹ مار میں مصروف عمل اور اپنی تمام تر توجہ اپنے اقتدار کو محکوم اور مظلوم بنانے کے لئے انہیں بی این پی عوامی تائید اور حمایت عزم نہیں ہو رہی ہے
کیونکہ بی این پی کی قیادت اور کارکنوں نے جس انداز میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان اور بلوچ عوام کی قومی ، اجتماعی مفادات کی تحفظ کے لئے اور استحصالی پالیسیوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہو کر جدوجہد میں مصروف عمل ہے ۔
پاکستانی باشعور عوام کو پارٹی کے تین رنگہ قومی بیرغ کے سائے تلے متحد ہو کر تے ہوئے سیاسی، جمہوری جدوجہد کو اپنے مضبوط گرفت بنا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ آج بلوچستان کے کونے کونے میں بزرگ بلوچ قوم دوست عظیم رہنماء سردار عطاء اللہ خان مینگل کی فکر وفلسفے اور سیاسی تحریک کی پیرو کاروں کی تعداد میں ہزاروں کی تعداد میں اضافہ ہو تے جا رہے ہیں ۔
کوہلوجیسے علاقے کا بلوچ قومی تحریک میں ایک اہم مقام ہے اب وہاں کے عوام بی این پی اور سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں متحرک ہوکر تحریک کی طرف راغب ہونا بلوچستان کی قومی سیاست میں ایک اہم پیشرفت ہے جو کہ ان عناصر قوتوں کے لئے ناقابل قبول ہے ۔
جو وہ سیاست کو صرف اپنا ذاتی جا گیر سمجھتے ہیں وجہ ہے کہ وہ آج کوہلو میں پارٹی کی بھڑتی ہوئی مقبولیت اور پارٹی کا راستہ روکنے کے لئے اپنے منفی ہتھکنڈوں میں مصروف عمل پارٹی کارکنوں کے خلاف بلا جواز انتقامی کا رروائیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر نا چا ہتے ہیں
ایسے واقعات اور اقدامات کے کسی بھی صورت قبول نہیں کرینگے اور نہ پارٹی کی سوچ فکر وسیاست کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔