|

وقتِ اشاعت :   November 3 – 2017

ڈیرہ اللہ یار: پولیس نے سندھ سے کربلا جانیوالے زائرین کو سیکورٹی کے پیش نظر سندھ بلوچستان سرحدی باڈر پر روک لیا گیا ۔

بلوچستان میں داخل نہ دینے کے خلاف زائر ین نے سندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو بلا ک کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا ، جس سے ٹریفک معطل ہوگئی ۔ تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اللہ یار کے قریب سندھ بلوچستان سرحدی باڈر پر پولیس نے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر سندھ سے کر بلا جانیوالے زائرین کے 12کوچز کو بلوچستان میں داخل ہونے سے روک دیا ، جس پر بڑی تعداد میں زائرین نے سندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو بلا ک کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھر نا دیا ۔

جس سے دو نوں اطراف سے مسافروں گاڑیوں کی لمبی قطار لگ گئی ، جس مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایس ایس پی جعفرآباد طارق الہیٰ مستوئی نے مجلس وحدت مسلمین کے بلوچستان سیکریٹری جنرل علامہ برکت علی دھرپالی مطہری اور مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی سے مذاکرت کرکے شاہراہ کو کھول دیا ، جبکہ بلوچستان حکومت سے طرف سے زائرین کو اجازت نامہ نہ ملنے کی وجہ سے سندھ بلوچستان سرحدی باڈر پر پولیس نے ذائرین کو روک کے رکھا ۔

اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے بلوچستان سیکریٹری جنرل علامہ برکت علی دھرپالی مطہری اور مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے میڈ یا کے نمائند ؤں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ پرامن زائرین کو بلوچستان کے راستے سے کربلا نہیں جانے دیا جارہا ہے جو زائرین کے ساتھ بڑی زیادتی ہے ،زائرین کو سیکورٹی دینا حکومت وقت کی زمہ دار ی ہے ۔

زائرین کو اس طرح کئی کئی گھنٹے روکنے سے سیکورٹی کے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں ،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پورے ملک سے کربلا جانے والے زائرین کو سخت سیکورٹی فراہم کرکے زائرین کو بلوچستان میں داخل ہونے کی اجازت دینی چاہئے ،اگر حکومت نے زائرین کو بلوچستان میں داخل نہ ہونے دیا تو اس کے خلاف بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا جارہے گا ۔