کراچی: بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی طرف سے تنظیم کے انفارمیشن سیکرٹری سمیت 8کمسن نوجوانوں اور کوئٹہ سے چار خواتین و بچوں کی جبری گمشدگی کے خلاف کراچی میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
احتجاجی ریلی آرٹس کونسل کراچی سے شروع ہوکر کراچی پریس کلب کے سامنے اختتام کو پہنچی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر مغویان کے تصاویر اور نعرے درج تھے۔
ریلی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وائس چیئرپرسن اسد بٹ، سول سوسائٹی کارکن جبران ناصر، ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے نغمہ شیخ، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے فاطمہ زیدی، بلوچ رائٹس کونسل عبدلوہاب بلوچ سمیت سینکڑوں خواتین ، نوجوان و بچوں نے شرکت کی۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بی ایچ آر او کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی کے واقعات تھمنے کے بجائے شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی سے نوجوانوں کی گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے لیکن اب خواتین اور کمسن بچے بھی اس پالیسی سے محفوظ نہیں ہیں، 28اکتوبر کو کراچی سے اغواء کیے جانے والوں میں سے بی ایچ آر او کے انفارمیشن سیکرٹری آٹھ دیگر کمسن نوجوان شامل ہیں۔
ان نوجوانوں کی عمریں آٹھ سے پچیس سال کے درمیان ہیں جو کہ یہاں کراچی میں پڑھنے کی غرض سے موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی جبری گمشدگی کی بھی طرح قابلِ جواز نہیں، ملک میں عدالتیں موجود ہیں اگر کسی کے خلاف کوئی الزامات ہیں تو مقدمات قائم کرکے انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
بی ایچ آر او کے رہنماؤں نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ سندھ کی صوبائی حکومت کراچی سے اغواء کیے جانے والے آٹھ نوجوانوں کی گمشدگی پر مکمل خاموش ہے، حالانکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے وزیر اعلیٰ کے دائرہ اختیار میں کام کرتے ہیں، ۔
زیر اعلیٰ سندھ کی زمہ داری ہے کہ وہ جبراََ گمشدہ کیے گئے تمام نوجوانوں کی بازیابی کو ممکن بنانے کے لئے کردار ادا کرے۔ انہوں نے کوئٹہ سے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فورسز کے رویے بلوچستان کی صورت حال کو مزید ابتر بنائیں گے۔