کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے جاری کردہ بیان میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی اہلیہ ، بیٹی سمیت دیگر خواتین اور بچوں کی ماورائے آئین وقانون گرفتاری اور لاپتہ کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فی الفور رہائی وبازیابی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین وبچوں کی ماورائے آئین گرفتاری ملکی آئین وقانون ، پشتون بلوچ اقوام کی قومی روایات واقدار ، بنیادی انسانی حقوق اور اعلیٰ عالمی قوانین کے سراسر منافی عمل ہے ۔
لیکن آمریت کے قوتوں نے ملک بالخصوص پشتون بلوچ صوبے میں سیکورٹی کے نام پر آئین وقانون کو پامال کرتے ہوئے صوبے میں عوام کی اقتدار واختیارات اور وسائل پر قبضہ جماتے ہوئے عوام وشہریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کردیا ہے ۔
جس کی وجہ سے اب صوبے کی خواتین اور بچے بھی آمریت کے قوتوں کی آمرانہ اور ظالمانہ کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہے ۔
اور صوبے میں عوام کی منتخب جمہوری حکومت کے بجائے ان قوتوں نے سیکورٹی کے نام پر اپنی الگ اور متوازی حکومت بناکر صوبائی خود مختیاری اور منتخب صوبائی حکومت کی رٹ واتھارٹی کو چیلنج کیا ہے ۔
بیان میں صوبے کے تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آمرانہ قوتوں کی جانب سے سیکورٹی کے نام پر صوبے میں جاری غیر آئینی وغیر قانونی اور غیر انسانی کارروائیوں کے خاتمے اور ماورائے آئین اقدامات کی روک تھام کیلئے مشترکہ لائحہ عمل وضع کرکے صوبے میں عوام کی سیاسی اقتدارواختیارات اور بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بناکر اپنا قومی جمہوری اور سیاسی فریضہ ادا کرے۔