|

وقتِ اشاعت :   November 6 – 2017

کوئٹہ:  وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے پاک ایران بارڈر پر بلوچستان کے تاجروں اور درآمدو برآمد کنندگان کو سہولیات کی فراہمی میں اضافے اور کسٹم ڈیوٹی میں خصوصی رعایت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف خطے میں تجارتی ومعاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ سمگلنگ کے رحجان کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلیکٹر کسٹمز بلوچستان اشرف علی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے گذشتہ روز ان سے ملاقات کی۔ کلیکٹر کسٹم نے وزیراعلیٰ کو مقامی تاجروں اور درآمدو برآمد کنندگان کو ایف بی آر کی پالیسی کے تحت حاصل خصوصی مراعات اور رعایتوں کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک منصوبے میں بلوچستان کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور بلوچستان مستقبل میں پاکستان اور خطے کے لئے تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بننے جارہا ہے۔

اس تناظر میں بلوچستان کے راستے افغانستان ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ سرگرمیوں میں اضافے اور مقامی تاجروں کی شراکت داری کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے جس کے لئے ضروری ہے کہ یہاں کے برآمد و درآمد کنندگان کو خصوصی مراعات دی جائیں۔

وزیراعلیٰ نے پاک ایران اور افغان سرحدی علاقوں میں مزید انٹری پوائنٹس کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔

کلیکٹرکسٹمز نے وزیراعلیٰ کے مؤقف اور تجاویز سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اس حوالے سے ایف بی آر کو سفارشات بجھوائی جائیں گی۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے ہفتہ وار تعطیل کے باوجود اتوار کے روز بھی مصروف دن گزارا اور سرکاری امور کی انجام دہی کی۔ وزیراعلیٰ سے وفاقی وزی سفیران جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے بھی ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران صوبے اور ملک کی سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے پاک افغان بارڈر سے حراست میں لی گئی خواتین اور بچوں کی رہائی اور انہیں بلوچی روایات کے مطابق مکمل عزت واحترام کے ساتھ رخصت کرنے کے وزیراعلیٰ بلوچستان کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے بین الاقوامی سطح پر بلوچستان کے حوالے سے ایک مثبت پیغام گیا ہے اور ملک دشمن عناصر کو اس مسئلے کو منفی پروپیگنڈے اور سازش کے طور پر استعمال کرنے کے مذموم عزائم میں ناکامی ہوئی۔ 

انہوں نے کہا کہ بحیثیت چیف آف جھالاوان اور وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے جس دانش، بصیرت اور دلیری کے ساتھ صوبے کی جاندار روایات کی پاسداری کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔

اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان اور یہاں کے لوگوں کے حقوق ومفادات او رعزت واحترام کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے جس کے لئے وہ آخری حد تک جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کیا جانے والے منفی پروپیگنڈے کو ناکام بنایا جائے گا۔

ہم نے خواتین اور بچوں کو بلوچی روایات کے تحت عزت وتکریم دے کر اپنے آباء واجداد اور بلوچستان کی مثبت اور شاندار روایات کو اجاگر کیا ہے اور ہم آئندہ بھی صوبے کی دیرینہ روایات پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔