گلستان: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے پشتونوں کو درپیش حالات اور مسائل کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کے حل کے لئے قوم اور مذہب کا لبادہ اوڑھ کر پارلیمنٹ تک پہنچنے والے گونگے بہرے اور اندھے بن چکے ہیں ۔
پشتون اپنی اصل قیادت کو پہچانتے ہوئے جعلی قیادت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسترد کردیں اور اس بنیادی نکتے پر غور کریں کہ کیا پشتونوں کو درپیش مسائل کے ذمہ دار وہ لوگ نہیں جو حکومت میں اہم چوکیوں پر بیٹھے ہیں مگر ظلم اور زیادتیوں پر ٹس سے مس نہ ہوتے ہوئے پشتونوں کے خلاف جاری سازشوں پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اب تو پشتونوں کو یہ شک ہورہا ہے کہ ان مسائل کے پیچھے اصل ہاتھ انہی کاہے تاکہ پشتونوں کو مختلف مسائل میں اس طرح الجھا کر رکھا جائے ۔
ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی،سلیمان خیل قوم کے سربراہ مفتی عبدالسلام ،معروف و سیاسی و قبائلی رہنماء ڈاکٹراکبر کاکڑ،سید امیر علی آغا،ملک امین اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ،جاوید خان کاکڑ ،مابت کاکا،عنایت خان عبدالرحمان زئی ،عبدالباری کاکڑ،،عبدالباری آغا،خان محمد کاکڑ ،حبیب خان اتل ،حاجی ولی محمدکاکڑ،ولی خان کلیوال نے پیر کے روز گلستان نورک سلیمانخیل میں جاوید خان کاکڑ کی رہائش گاہ پر ورکرز کنونشن اور کلی عبدالرحمان زئی میں حاجی عصمت اللہ کاکڑ کی رہائش گاہ پر منعقدہ اولسی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ اپنی ہی سرزمین پر مختلف ٹکڑوں میں بٹی ہوئی پشتون قوم اس وقت جن حالات سے دوچار ہے پشتونوں کی جدید تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی آج پشتونوں کے خلاف ہر سطح پر سازشیں کی جارہی ہیں ایک طرف انہیں زبان اور ثقافت کے نام پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے ۔
دوسری جانب پگڑی اور داڑھی کو جواز بنا کر انہیں دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے انہیں ملک کا شہری تسلیم نہیں کیا جارہا اور ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنایا جارہا ہے ، پہلے سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں پشتونوں کو تنگ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور اب تو یہاں اپنے اضلاع میں بھی ان سے روزگار اور محنت مزدوری کا حق تک چھینا جارہا ہے ہر ناکے پر انہیں گھنٹوں گھنٹوں تک کھڑا کیا جاتا ہے ۔
وہ لوگ جنہوں نے قوم اور مذہب کا نام استعمال کرکے پشتواور پشتونولی کی سیڑھی استعمال کی اور پارلیمنٹ تک پہنچے افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اب انہیں نہ تو کچھ سنائی دیتا ہے اور نہ ہی کچھ دکھائی دیتا ہے وہ چپ چاپ اندھے گونگے اور بہرے بنے ہوئے ہیں جلسوں میں قوم دوستی کا دم بھرتے ہیں اور نجی محفلوں میں ا س بات پر کلمہ شکر ادا کرتے ہیں کہ پشتون قوم مسائل میں اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ ان کا دھیان پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کی طرف نہیں ۔
اے این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ پشتونوں کو چاہئے کہ وہ ان حالات کا تجزیہ کریں اور اس بات پر سوچیں کہ پشتونوں کی اصل قیادت کونسی ہے ۔ اصل قیادت وہ ہے جو روز اول سے پشتو اور پشتونولی کے لئے قربانیاں دے رہی ہے اصل قیادت فخر افغان باچاخان کے قافلے میں شامل لوگوں کی ہے ۔
جنہوں پارلیمنٹ ، کرسی ، وزارت ، مراعات اور ذاتی فائدے کے لئے حق کا ساتھ نہیں چھوڑا اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنی ذات کی بجائے اجتماعی پشتون مفادات کی بات کی اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اب وقت آگیا ہے کہ پشتون جعلی قیادت کو مسترد کرکے حقیقی قیادت کے پیچھے چل پڑے ہم بہت بلند دعوے نہیں کرتے مگر یہ یقین ضرور دلاتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے عوام اہم ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم پشتونوں کے بقاء کی لڑائی لڑ رہے ہیں پشتون تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑے ہیں ان کے خلاف ہر طرف سے سازشیں ہورہی ہیں انہیں مارا جارہا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ کیوں مارے جارہے ہیں ۔
ان حالات سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ پشتون اتحاد وا تفاق اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اصل قیادت کو پہچانیں اور اس کے پیچھے چل پڑیں ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم کسی موڑ پر اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑ یں گے ۔
انہوں نے کہا کہ پشتون حقوق کے لئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی 13نومبر کو خان حاجی جیلانی خان اچکزئی شہید کی 7ویں برسی کی مناسبت سے چمن شہر میں پارٹی کے زیراہتمام جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا ہے جس سے ملی مشر اسفندیار ولی خان سمیت پارٹی کے مرکزی اور صوبائی قائدین خطاب کریں گے ۔
کارکن جلسہ عام میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں انشاء اللہ پشین جلسے کی طرح چمن کا جلسہ عام بھی صوبے کی تاریخ کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور پشتون ثابت کردیں گے کہ ان کی پارٹی کونسی ہے اور وہ کس کو اپنا رہبر اور رہنماء مانتے ہیں ۔