سی پیک، گوادر اور بلوچستان: بلیو اکانومی کے ذریعے معاشی استحکام

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ملک کا ایک پسماندہ خطہ ہے یہ پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد حصے پر مشتمل ہے اور ملک کی سب سے طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے بلوچستان کی عرب سمندر کے ساتھ تقریباً 750 سے 760 کلومیٹر طویل ساحلی لائن ہے، جو اسے بلیو اکانومی (سمندری معیشت) کی ترقی کے لیے ایک نہایت اہم مقام بناتی ہے۔ تاریخی طور پر بلوچستان کو ترقی کے میدان میں بہت کم توجہ دی گئی، لیکن حالیہ برسوں میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی بدولت ساحلی بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جو اسے ایک بڑے علاقائی تجارتی اور رابطہ جاتی مرکز کے طور پر ابھار رہی ہے اور بلیو اکانومی کے فروغ کے مواقع فراہم کر رہی ہے صوبہ بلوچستان قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے جن میں سونا، تانبا، کوئلہ، لوہے کی کانیں، سیسہ، شیل گیس، کروم اور اینٹیمونی شامل ہیں۔