دنیا بھر میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (MSMEs) ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتیہیں۔ یہی کاروبار روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کرتے ہیں، مقامی پیداوار کو فروغ دیتے ہیں، اور معاشی استحکام کی بنیاد بنتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ایک جانب بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور دوسری جانب معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہے، تو ایسے حالات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
دانشور لوگوں (جو دھرتی پر دُور بادلوں کے پار تک نظر رکھتے ہیں ) کا خیال یہی ہے کہ اِس ملک کے عوام کی مقدر میں آج سے نہیں بلکہ ازل سے ترقی اور پیش رفت نہیں ہے یہ بھی کہ جس ڈگر پر ملک کے حکمران رواں دواں ہیں اُن پر چلتے ہوئے ابد تک بہتری اور سُدھار کو خواب و خیال سمجھ کر بھول جانا چاہیئے
زانتکارانی حیال ہمیش اِنت کہ چہ شامءَ پد نوکیں سال 2025ء وتی ہمبرائیءَ ایرانءِ نمبرءَ کاریت۔ گُوش اَنت کہ دیمترا نمبر پاکستانءِ کیت البت اے ہم گوش اَنت کہ پاکستان کُوہنیں وفادارءُ ہمکارے، وتارا گوپچالاں نه دنت۔
قیام پاکستان سے لیکر پانچ ، چھ دہائیوں تک اِس ملک پر جاگیردار اور پاکستان کی حیثیت کے مطابق صنعت کار طبقات کی نمائندہ جماعتوں نے عدم برداشت اور ایک دوسرے کے ساتھ محاذ آرائی مگر مقتدرہ کے ساتھ تعاون اور سرپرستی کی شکل میں یکے با دیگرے تمام دورانیوں یا وزارتِ عظمیٰ کے تبدیلیوں کی صورت میں ملک پر باری باری حکومت کی ہے۔
ہم مسٹر بھٹّو پر بلاجواز تنقید شروع کر دیں تو یہ اقدام جانبدارانہ طرزِ سوچ پر مبنی ہونے کے سبب قطعی طور پر مناسب نہیں ہے مگر یہ ایک تابندہ حقیقت ہے اور سیاست کی تاریخ کی نہ صرف جزوِ لاینفک بلکہ روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے کہ پی پی اور بی ایس او کم و بیش ایک ہی دور کی پیداوار ہیں۔
ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے اگر پاکستان کی تاریخ دیکھی جائے تو ملک کی مقتدرہ آزادی کی حاصلات کو عوام تک پہنچانے کے برعکس ہر گزرتے روز کے ساتھ ملک کو اْس کیفیت سے مزید ابتری کی جانب دھکیل رہا ہے اور دورِ رواں کی نفسانفسی کو اگر عمیق نگاہی سے پرکھا جائے تو تناؤ، کہنے دیجیئے کہ ملک کو لاینحل تصادم کی جانب گھسیٹتے جا رہے ہیں۔