20نومبر کو پوری دنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور ہم بھی دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہیں جو اپنے آپ کو ایک ترقی یافتہ قوم ظاہر کرنے کیلئے بھی اخبارات ،ٹی وی چینلز سمیت سوشل میڈیا پر بچوں کے عالمی دن کے موقع پر تجزیہ کرتے ہیں
جب سے میرے باباجان لاپتہ کر دیئے گئے ہیں یہ زندگی بھی زندگی نہیں بلکہ ایک کہانی اور خواب کی مانند ہوگئی ہے۔ ہمارے پیارے بابا جان پتہ نہیں کہاں اور کس حال میں ہوں گے۔
زندگی کے بعض سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں نہ تو پاؤں تھکتے ہیں، نہ دل بیزار ہوتا ہے اور نہ ہی آنکھوں کو منزل دیکھنے کی جلدی ہوتی ہے۔ بلکہ دھیرے دھیرے سے منزل کی جانب بڑھتے ہوئے قدم اس راستے پر ہی چلتے رہنا چاہتے ہیں۔میرا سفر جس مقام کی جانب جاری تھا، وہاں ہر سال ہزاروں لوگ، عقیدت مند اور دنیا کے لوگ آتے ہیں جی ہاں یہ وطِن عزیز کو قدرت نے رعنائیوں سے بھرپور زمین عطا فرمائی ہے،
پچھلے ہفتے مجھے آفس کے ضروری کا م کی وجہ سے دوسرے شہر جا نا تھا گھر سے نکلتے وقت میرا تین سال کا بیٹا مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا میں اس کی سوالیہ نظریں دیکھ کر واپس پلٹا اور
بلوچستان میں امن اور ترقی کی کافی باتیں ہورہی ہیں اور اقدامات بھی اٹھا ے جا ر ئے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ بلوچستان میں امن اور ترقی کیسے اور کیونکر ممکن ہے اور وہ کون سے اقدامات ہیں جن کی بنیاد پہ امن قاہم ہوسکتا ہے؟ اور اتنے سالوں سے مکمل طو رپر امن کیوں بحال نہ ہو سکی؟پھر کوفی عنان کی نوجوانوں سے متعلق ایک بات سامنے گزری کہ نوجوان ہی امن اور ترقی کے ایجنٹ اور ضامن ہوتے ہیں۔
پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے پاکستان کی زیادہ تر آبادی دیہات اور گاؤں پر مشتمل ہے جو70 فیصد بنتی ہے اس لیے یہاں تعلیم کی کمی ہے۔ ہمارے معاشرے میں لڑکی تھوڑی بڑی ہوجاتی ہے تو جلدی اسکی شادی کردی جاتی ہے۔ہمارے ملک میں لڑکا اورلڑکی میں بہت فرق کیا جاتا ہے ، لڑکی کو بھی اپنا کیریئر بنانے کا اتنا حق ہے جتنا ایک لڑکے کو۔ لڑکی کو پرایا دھن یا دوسرے گھر کا تصور کیا جاتا ہے۔
کراچی: سریاب پولیس ٹریننگ سینٹرسانحہ کے بعد اٹھنے والے سوالات جواب طلب ہیں،ٹر یننگ ختم ہونے کے بعد اہلکاروں کو کیونکرواپس سینٹرطلب کیا گیا،دہشت گردی کی اطلاع کے باوجود سینٹر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیوں نہیں کیے گئے ، سانحہ سول ہسپتال کے بعدبھی شہر میں سیکیورٹی کی صورتحال ابترکیوں ہے،ایسے متعدد سوالات اٹھائے جارہے ہیں یقیناجواب طلب ہیں مگر ذمہ دارانہ طریقے سے جواب کون دے گا،ہر سانحہ کے بعد تحقیقاتی کمیشن تشکیل دی جاتی ہے اور جب تک رپورٹ سامنے آتی ہے تب تک عوام اس سانحہ کو بھول چکے ہونگے
حالیہ دنوں میں ملک کے اِن قابل نوجوانوں سے تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا جوپاکستان کی ترقی و خوشحالی میں نت نئے بزنس آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے میں مصروفِ عمل ہیں
پاکستانی معاشرہ قول اور فعل کی تضادات کے سبب بد ترین دوغلاپن کا شکار ہے۔ جس کا سبب مقتدرہ کی روایتی سوچ او ر زمینی حقائق میں بڑھتے فاصلے ہیں ۔حالات یکسر بدل چکے ہیں
مولانا نیاز محمد درانی ؒ پوری زندگی درس وتدریس اور تعلیم و تعلم سے وابستہ رہے۔حدیث نبوی “علم حاصل کرو ماں کی گود سے گور تک”پرپوری زندگی عمل پیرا تھے۔کم عمری میں محلے کی مسجد میں علم کے حصول سے وابستہ ہوگئے تھے۔ابھی سن بلوغت کونہیں پہنچے تھے کہ گھر سے رخت اقامت کیا او رتلاش علم میں کوئٹہ کے علاقے کلی سردہ، سریاب میں اپنے ماموں ملامحمد رحیم صاحب کے گھر میں سکونت اختیار کی جہاں مقامی مدرسہ میں داخل ہونے کا موقع نصیب ہوا ۔یہی وہ مقام ہے