جمعہ کے دن اچانک نواب خیربخش مری کو لیاقت نیشنل اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ ان کی حالت تشویشناک تھی۔ مگر ان کے خاندانی ذرائع اور اسپتال کے حکام نے ان کی بیماری کی نوعیت نہیں بتائی کہ ان کو کیا عارضہ لاحق ہے۔
کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں کاروبار زندگی ایک دم ٹھپ ہوکر رہ گئی جب لندن سے یہ مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ الطاف حسین کو باقاعدہ حراست میں لے لیا گیا اور ان سے منی لانڈرنگ کے بارے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
ویسے تو بلوچستان کی معیشت کا دارومدار صرف اور صرف اسمگلنگ پر ہے۔ صنعتی اشیاء اسمگل ہوکر بلوچستان آتی ہیں۔ اس پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا اور نہ ہی اسمگلرز اور دکاندار ریاست کو کسی قسم کا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پہلی بار یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں 50 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے رہتی ہے۔ یعنی دو سو روپے سے کم روزانہ ان کی آمدنی ہے۔ دوسرے الفاظ میں حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور 10کروڑ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
حالیہ واقعات سے یہ آسانی سے ثابت ہوگیا ہے کہ الطاف حسین اور ان کی ایم کیو ایم دائمی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔ منی لانڈرنگ اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس سے اس کے بچنے کے امکانات انتہائی کم ہیں
چار اکائیوں پر مشتمل ملک پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے اس بات کے عملی ثبوت کبھی نہیں ملے کہ ملک کے مختلف حصے یکساں ترقی کی دوڑ میں برابر شریک ہوں ۔اور نہ ہی ماہرین معاشیات نے اس امر کی تصدیق کی ہے
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں چھ ہزار سے زائد اسکول دو کمروں پرمشتمل ہیں اور ہر ایک اسکول میں صرف ایک استاد ہے ۔ یہ صورت حال گزشتہ نصف صدی سے قائم ہے ۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے یہ اعلان کیاہے کہ سندھ کے عوام وفاق اور وفاقی حکومت کے خلاف ہیں کیونکہ وفاق سندھ کے حقوق کو پامال کررہا ہے اور سندھ کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کررہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سندھ کے گیارہ بڑے معاشی منصوبے ڈراپ کردیئے گئے ہیں یا ان کو پی ایس ڈی پی سے نکال دیا گیاہے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہوچکا ہے ان کا کہنا تھا کہ فضائی کارروائی کا تعلق جوابی کارروائی سے ہے ۔ بعض دہشت گرد گروپ ملک کے بعض علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں کررہے ہیں
نامعلوم مسلح افراد نے وڈھ کے قریب ایک لیویز پوسٹ پر حملہ کرکے آٹھ اہلکاروں کو شہید اور دو کوزخمی کردیا جن کو فوری طورپر اسپتال منتقل کردیا گیا ۔ واقعہ صبح نو بجے پیش آیا اور دہشت گرد گیارہ گاڑیوں میں سوار تھے اور قبائلی لشکر کی صورت میں لیویز پوسٹ پر حملہ آور ہوئے ۔