ملک میں ایک طرف سیاسی ہلچل جاری ہے تو دوسری جانب بہت سارے مسائل پس پشت چلے جارہے ہیں جن کابراہ راست تعلق عوام سے ہے یقینا سیاسی بحران سے بھی ملک میں انتشار پیدا ہوتا ہے تو اس کا خمیازہ بھی عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
ملک میں ایک طرف سیاسی ہلچل جاری ہے تو دوسری جانب بہت سارے مسائل پس پشت چلے جارہے ہیں جن کابراہ راست تعلق عوام سے ہے یقینا سیاسی بحران سے بھی ملک میں انتشار پیدا ہوتا ہے تو اس کا خمیازہ بھی عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
ملک میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ایک بار پھر تجارتی مراکز کو رات 8بجے جبکہ شادی ہالز کو رات 10بجے بندکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد توانائی کی بچت ہے۔ اس فیصلے کو یقینا تاجر برادری تسلیم نہیں کرے گی کیونکہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں تجارتی سرگرمیوں سمیت شادی ہالز رات دیر تک کھلے رہتے ہیں۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
ملک میں سیاسی ہلچل میں شدت آتی جارہی ہے ۔پنجاب میں اسمبلی تحلیل کرنے کا معاملہ بھی فی الوقت کٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے چوہدری برادران دبے لفظوں میں بہت سارے اشارے اور پیغامات عمران خان کو دے رہے ہیں کہ وہ اسمبلی تحلیل کرنے کے موڈ میں نہیں، جس طرح پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی نے گزشتہ روز دوٹوک انداز میں عمران خان کو بتایا کہ سابق آرمی چیف (ر) جنرل قمرجاوید باجوہ میرے اورپی ٹی آئی کے محسن ہیں ان کے خلاف بات کسی صورت برداشت نہیں کرونگا، اگر دوبارہ بات کی گئی۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
ملک میں مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے جس میں کمی کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے ۔آئے روز اشیاء خورد ونوش کی قیمتوں میںاضافہ ہورہا ہے عام لوگوںکی قوت خرید جواب دے رہی ہے۔اب کوئی اچھی خبر معیشت کے حوالے سے نہیں آتی حکومتوں کی جانب سے دعوے تو کئے جاتے ہیں مگر عملاََ معاشی صورتحال ابتر ہی دکھائی دیتی ہے جس کی بنیادی وجہ سیاسی عدم استحکام بھی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ سیاسی ماحول اس وقت بہت زیادہ گرم ہے اپوزیشن اور حکومت مدِ مقابل ہیں ۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
سابق وزیراعظم عمران خان گزشتہ 8 ماہ سے یہی بتاتے آرہے ہیں کہ نیوٹرل کا مفہوم اور اس کی تشریح کیا ہے، جانور، میر صادق ،میر جعفر، سازشی، چوکیدار، چور کا رکھوالا کے ان تمام القابات سے وہ مسلسل ہر فورم پر اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے لے کر کرسی جانے کے بعد تک نوازتے رہے ہیں ۔گزشتہ روز انہوں نے بیان دیا کہ مجھے خوشی ہوگی کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہے کیونکہ اس سے ہماری فوج کا وقار بلند اور ادارہ مضبوط ہوگا۔ عمران خان کے اس بڑے یوٹرن سے کسی طرح کی حیرانگی کسی کو نہیں ہوگی کیونکہ عمران خان یوٹرن کو سیاسی حکمت اور بہترین پالیسی بتاتے ہیں جس کا اعتراف وہ خود متعدد بار کرچکے ہیں۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
پاک افغان سرحد چمن پر ایک بار پھر فائرنگ کاواقعہ پیش آیا ہے جس سے حالات مزید کشیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ایک طویل جنگ کے بعد افغانستان میں امن کے قیام کے لیے سب کوشاں تھے جبکہ پاکستان نے اول روز سے افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کے حوالے سے ہر فورم پر بات کی ہے کہ افغانستان میں امن خطے کے لیے انتہائی ضروری ہے مگر افسوس کہ اب حکومتی تبدیلی اور امریکہ اوراس کے اتحادیوں کے انخلاء کے بعد مسلسل افغانستان کی سرزمین سے پاکستانی سرحد پر شہری آبادی کو نشانہ بنایاجارہا ہے جس سے قیمتی جانیں جارہی ہیں اور یہ کوئی اچھا عمل نہیں ہے اس سے یقینا جوابی حملے بھی ہونگے کیونکہ پاکستان بھی اپنی سرزمین کا دفاع لازمی کرے گا۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
ریکوڈک منصوبہ بل کی منظوری کی بعد سیاسی پارہ بڑھ گیا ہے۔ وفاقی حکومت میں موجود بی این پی اور جمعیت علمائے اسلام نے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے اور اس حوالے سے سخت گیر مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر ریکوڈک منصوبے پر بلوچستان کے مفادات کے برعکس فیصلہ کیا گیا تو حکومت کے ساتھ مزید چلنا مشکل ہوگا مگر یہ جمعیت کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوگا کیونکہ اس وقت مرکزی حکومت پی ڈی ایم کی چھتری تلے چل رہی ہے جس کے سربراہ جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان ہیں اور اس وقت سب سے زیادہ مشکل وقت مولانا فضل الرحمان پر آیا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کو کس طرح اکٹھا رکھ سکے گا۔اس وقت جو ریکوڈک کے حوالے سے سیاسی کشیدگی اتحادیوں کے درمیان پیدا ہوئی ہے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
بلوچستان کے ساتھ وفاقی حکومت پھرکوئی واردات کرنے جارہی ہے۔ماضی سامنے ہے کہ کس طرح سے بلوچستان کے میگامنصوبوں کو مال مفت دل بے رحم سمجھ کر کمپنیوں کے حوالے کرکے منافع کمایا گیا اور ذاتی طور پر بھی اس سے مستفید ہونے کی ایک طویل تاریخ ہے کہ کس طرح سے سیاسی اور دیگر بڑی شخصیات مختلف منصوبوں میں اپنا ہاتھ صاف کرتے رہے ہیں اور یہ انکشافات خود وفاقی حکومتوں میں شامل شخصیت ایک دوسرے پر الزامات لگاکر کرتے ہیں۔ بلوچستان کے معدنی وسائل کے لوٹ مار کا سلسلہ دہائیوں سے چل رہا ہے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
بلوچستان میں پچھلی کئی دہائیوں سے دیگر صوبوں سے آنے والے آفیسران کی ترجیح دیگرصوبوں کے باشندوں کے ڈومیسائل سمیت دیگر دستاویزات یہاں سے بنانا ہے جس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مستقبل میں جب وہ ریٹائرڈ ہوجائیں تو وہ ذاتی طور پر اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ وفاقی محکمے ان کے اہداف میں خاص کر شامل ہوتے ہیں ۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
دنیا کوپہلے سے ہی بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے ان حالات میںیہ کسی بہت بڑے جنگ کی متحمل نہیںہوسکتی ۔ روس یوکرین جنگ کی وجہ سے دنیا میں بلاک بننا شروع ہوگئے ہیں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے پابندیوں کا ایک سلسلہ بھی چل رہا ہے مختلف ممالک اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں جس سے دنیا میں معاشی بحران کا مسئلہ پھر سراٹھائے گا جس کی وجہ سے پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی۔ بہرحال اب تو ایٹمی حملوں کا تذکرہ سامنے آرہا ہے یہ خطرناک حالات کی طرف اشارہ ہے کہ کسی بھی وقت حالات بہت زیادہ خراب ہوسکتے ہیں، مشرقی اور مغربی یورپ بہت بڑی جنگ میں پھنس جائے گی۔ اس سے پہلے کہ بڑے حملے ہونا شروع ہوجائیں ،اسے روکنے کے لیے اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کے اداروں سمیت دیگرکو کردار ادا کرنا ہوگا۔