ایک مردانہ اجاراہ دار سماج میں خواتین کا دوسرے درجے کی مخلوق بن کر رہنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔لیکن اس اجارہ داری کو برقرار رکھنے لیے جب یہ صنف اوچھے ہتھکنڈوں پہ اتر آئے تو پھر بات قابلِ برداشت نہیں رہتی
افغان مہاجرین کا مسئلہ بلوچستان میں زیادہ سنگین ہوگیا ہے عوام الناس مجموعی طور پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے ناراض ہیں کہ ریاست افغان مہاجرین اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے
لگ بھگ ایک سو سال قبل ،، انیسو سو بیس کو،،کوپا کپ کے ایک میچ میں یوراگوئے نے برازیل کی ٹیم کو ایک میچ کے دوران صفر کے مقابلے میں چھ گول سے شکست دی تھی۔اتنے بڑے مارجن کی شکست آٹھ جولائی دو ہزار چودہ تک برقرار رہی
یہ بات ہے جنوری دوہزار نو کی۔جب آٹھ جنوری کو سری لنکا کے اخبار’سنڈے لیڈر‘ سے وابستہ نامور صحافی لسانتھا وکرماتنگ کو مقتدر قوتوں سے متعلق اُن کے واضح مؤقف اورآزادیِ اظہار کے باعث دن دہاڑے گولیاں مار کرقتل کردیا گیا۔ بی بی سی نے ان کے حوالے سے ایک لیڈ اسٹوری شایع کی۔
آئین کو ملک کی اہم اور مقدس دستاویز ماننے پر تو سبھی ذی شعور متفق ہیں ،لیکن مجھ سمیت بہت کم لکھنے والے ہوں گے جنھوں نے ملک کی اس اہم ترین اور مقدس دستاویز کا عرق ریزی سے تو دور کی بات، سرسری مطالعہ بھی کیا ہو۔
سماج کی بہتری کے لیے اس کی ابتری کو تنقیدی نکتہ نگاہ سے دیکھنے اور بیان کرنے والے ہمیشہ اپنے سماج بالخصوص طاقت ور حلقوں کے ہاں راندہِ درگاہ رہے ہیں،خواہ ایوانِ اقتدار میں کیسا ہی دانش ور کیوں نہ متمکن ہو۔ سقراط سے لے کر ڈارون تک، یسوح سے لے کرمارکس تک
معاشرے میں علم اور عمل کے کردار اور اہمیت پہ کوئی دو رائے نہیں۔ جدید عہد میں کوئی خودکشی پہ مائل معاشرہ ہی ہو گا جو علم کے میدان میں دلچسپی نہ لیتا ہو۔ تعلیم، علم کے حصول کی جانب لے جانے والا اہم راستہ ہے۔ یہ وہ کنجی ہے جو ہمیں علم کے مالامال خزانے سے روشناس کرواتی ہے۔
کسی زمانے میں امریکہ میں ایک اخبار ’نیو یارک ہیرلڈ‘ تھا۔مدت ہوئی اب وہ ختم ہو چکا ہے ۔وہ نوے سال تک زندہ رہا ۔اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے یہودی اثر کو قبول کرنے سے انکا کردیا ۔ویسے اس اخبار نے بڑے بڑے مفید کارنامے سرانجام دئیے ۔مثلاً اس نے ہنری اسٹینلے کو افریقہ بھیجا تا
المیوں کی گود میں پرورش پاتے،ایک کے بعد ایک سانحے سے دوچار ہوتے، اپنے نصیب کے پہاڑوں سے سرٹکراتے، لٹتے پٹتے بلوچستان پہ ایک اور سانحہ گزر گیا۔ایک پُروقار مگر ناقابلِ ازالہ سانحہ۔ بیشتر اختلافات کے باوجودعہد حاضر میں بلوچ ڈائسپورا کا سب سے بڑا رہنما ابدی نیند جا سویا۔
50 کے عشرے میں لیاری کے بچے بڑے تمام ہی فٹبالرز گنجی گراؤنڈ میں جاکر اپنا شوق پورا کیا کرتے تھے۔ اس میدان کے قریب ماری پور روڈ تھا اور ریلوے لائن گزرتی تھی اور کچھ فاصلے پر سمندر کی آخری لہر آکر ٹکراتی تھی۔