50 کے عشرے میں لیاری کے بچے بڑے تمام ہی فٹبالرز گنجی گراؤنڈ میں جاکر اپنا شوق پورا کیا کرتے تھے۔ اس میدان کے قریب ماری پور روڈ تھا اور ریلوے لائن گزرتی تھی اور کچھ فاصلے پر سمندر کی آخری لہر آکر ٹکراتی تھی۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
50 کے عشرے میں لیاری کے بچے بڑے تمام ہی فٹبالرز گنجی گراؤنڈ میں جاکر اپنا شوق پورا کیا کرتے تھے۔ اس میدان کے قریب ماری پور روڈ تھا اور ریلوے لائن گزرتی تھی اور کچھ فاصلے پر سمندر کی آخری لہر آکر ٹکراتی تھی۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
حسب سابق حکومت بلوچستان نے بجٹ دستاویزات کو خفیہ اور مقدس سمجھتے ہوئے اس سے عوام الناس اور میڈیا کو رسائی سے محروم رکھا حکمرانوں کی نظر میں یہ ایک مقدس دستاویز ہے لہٰذا اس کو عوام اور میڈیا کی پہنچ سے دور رکھا جائے دوسری وجہ یہ ہے کہ حکومت وقت اتنی مقبول ہے
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
نواب خیر بخش مری28 فروری 1928 میں میر مہراللہ خان مری کے گھر بلوچستان کے علاقے کاہان میں پیدا ہوئے، 1960 میں مری قبائل کے نواب چنے گئے ۔ نواب خیر بخش مری نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے کاہان سے حاصل کی
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
تمہارا کوئی دوست نہیں ہے جو کچھ کر سکے؟ اتنے سارے دوستوں نے تمہارے سی ایس ایس کیا تھا؟
جی ماں جی کیا تو کئی نے تھا لیکن بہت سوں سے تو اس کے بعد رابطہ نہیں رہا اور جن سے ہے بھی یہ کام ان کے بس سے بھی باہر ہے
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
بہت ہی سخت جان قسم کا بندہ لگتا ہے، ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی اپنی ضد پر اڑا ہوا ہے، بھوک ہڑتال ختم کرنے کا نام ہی نہیں لیتا۔کراچی پریس کلب کے سامنے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیتے ہوئے رشید نے اپنے دوست اورسابق پڑوسی کو بھوک ہڑتالی کیمپ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
بچپن میں اکثر اماں سے کسی ایسی چیز کی خواہش کرتے جو ان کی دسترس میں نہ ہوتی یا کوئی ضد یا کھانے سے انکار پر ٹال مٹول کرتے تو اماں اکثر یہ کہہ کر ڈراتی تھیں کہ جلدی سے سوجاؤ،یا جلدی سے کھالو،یا رونا بند کرو فلاں فقیر یا بڑی دانتوں والا جن آکر ابھی تمہیں لے جائے گا
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
روز آئے خبریں ملتی ہیں کہ ایک نئے نیوز چینل نے جنم لیا ہے اسکے جنم پر جشن منایا جاتا ہے صحافتی حلقوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے کہ نومولود بچہ بڑا ہوکر صحافت کے شعبے کے لئے ایک بڑا کارنامہ انجام دے گا۔ اور اسکی ہر سالگرہ پر جشن منایا جاتا ہے۔ کہ چینل نے گزشتہ سال کون کون سے کارنامے انجام دےئے
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
کہنے کو تو کراچی پریس کلب قلم کے مزدوروں کی فلاح وبہبود اور انہیں درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے بنایا گیا ایک ادارہ ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ غریب، مظلوم ، مجبوراور بے آسرا لوگوں کی آواز کو وقت کے حکمرانوں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بن گیا
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
آفات قدرت کی طرف سے آتے ہیں۔ لیکن ان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے اور نقصانات کو کم رکھنے کے لئے مؤثر پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ گزشتہ روز افغانستان کے شمالی علاقے میں مٹی کا تودہ گرنے سے 2000سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ قیمتی جانوں کے نقصان کے علاوہ فصل، مال مویشی، املاک کا نقصان بھی بہت اہم ہوتا ہے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
1886ء میں شکاگو کے محنت کشوں کی آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کیلئے جد و جہد بظاہر معاشی جدوجہد تھی لیکن اپنے جوہر میں یہ نظام کی تبدیلی کیلئے محنت کشوں کی تیاری تھی جس کا آغاز معاشی جدوجہد سے ہوا تھا ۔ 18گھنٹے کے اوقات کار کو آٹھ گھنٹے میں تبدیل کرنے سے محنت کشوں کو وہ وقت میسر آیا