بلوچستان کے تمام رومانوی عشاق شے مرید، حمل، کیا، لٰلہ، عزت، مست توکلی، کمبر، فریاد، بیبگر، دوستین پنوں ، اور شہداد کو اگر کمپوٹر میں ایک خاص سوفٹوئیر کے ساتھ تمام انسانی اقداری خوبیوں کے ساتھ فیڈ کیا جائے تو انکا جو آؤٹ پُٹ نکل کر آئیں گے وہ ماماعبداللہ جان ہیں،
کراچی: ہمارے یہاں حکمرانوں نے ہمیشہ اداروں کو پرائیوٹ کرنے کو محض اس لیے جواز بنارکھا ہے کہ سرکاری سطح پر کرپشن اور لاپرواہی برتی جاتی ہے جس سے ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں، چندماہ قبل جب پی آئی اے کو پرائیوٹ کرنے کا منصوبہ بنایا گیاتوپی آئی اے کے یونین اور ورکروں کی جانب سے اس کا شدید ردعمل سامنے آیا،
بلوچستان کی نامور علمی ،ادبی اور ترقی پسند سیاست کے سرخیل۔میر عبداﷲ جان جمالدینی پون صدی زبان، علم وادب اور معاشرے کی بھر پور خدمت سرانجام دیتے ہوئے96 سال کی عمر میں 21ستمبر2016ء کی رات ہم سے جسمانی طور پر جداہوگئے۔
بے شمار خوبیوں کو خود میں سموئے، عظیم ساحل سمندر اوراپنے جغرافیائی خدوخیال کی وجہ سے گوادر نہ صرف علاقا ئی بلکہ بین الاقوامی سطح کافی مشہورہوچکا ہے۔یہ بین الاقوامی قوتوں کے توجہ کا مر کز بن چکا ہے کیونکہ مستقبل قریب میں یہ ان کی معاشی ودیگر ضروریات کو پورا کرے گا۔ چین کی جانب سے 46ملین ڈالر کی لاگت سے گوادربندگاہ کی تعمیر ، اقتصادی رہداری، اکنامک کوری ڈور،اور سی پیک منصوبے پر کام تیز سے جاری ہے۔
بلوچستان سیاسی اور انتظامی عجائبات کا صوبہ ہے حالیہ عجوبہ یہ ہے کہ بلوچستان اس وقت پاکستان کا واحد صوبہ ہے جس کے تمام جامعات میں کوئی پرووائس چانسلر موجود نہیں آپ حق بجانب ہونگے اگر کہیں کہ یہ کونسی بڑی بات ہے جب 2013ء کے نگراں دور حکومت میں بلوچستان پاکستان کا واحد صوبہ تھا کہ ایک اکلوتے وزیراعلیٰ نے جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تن تنہا بلوچستان میں نہ صرف الیکشن کروائے بلکہ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ کامیاب انتخابات کا سہرا بھی سر پہ سجالیا تھا ۔ عام انتخابات کے بعد منتخب وزیراعلیٰ نے پورے پاکستان میں سب سے پہلے بلوچستان میں بلدیات انتخابات کرانے کا اعلان کردیا اور بلدیاتی انتخابات کے بعد صوبے کے الیکشن کمشنر نے اپنے ایک ٹی وی انٹر ویو میں اعتراف کیا تھا کہ ’’ہمیں اونٹ کو رکشے میں بٹھانے کی استداد کی گئی سو ہم نے کردکھایا‘‘
حال ہی میں وفاقی حکومت نے سائبر کرائم بل منظور کیا ہے۔ 29 جولائی2016کو سینٹ میں بل منظور ہوا کہ internetکے ذریعے دہشت گردی پھیلانے کی سزا چودہ سال قید اور پچاس ریحانہ فیروزلاکھ روپے جرمانہ ہوگا اور کسی بے گناہ کو تنگ کرنے یا غیر اخلاقی ‘ غیرقانونی مواد پھیلانے پر سات سال قید ہوگی ۔بل تو منظور ہوگیا کیا عوام اس بل کو مانے گی ؟
تقسیمِ ہند سے پہلے 1848 سے لے کر 1947 تک صدی پر محیط اقتدار کے دوران برطانوی راج نے بلوچستان میں ہزاروں میل طویل سڑکیں اور پٹریاں بچھائیں، پل، ہوائی اڈے اور چھاؤنیاں تعمیر کیں اور ڈاک اور ٹیلی فون کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔
دشمن کا ہمسایہ ہمیشہ دوست ہوا کرتا ہے کیوں کے دشمن کو نقصان پہچانے کیلئے دشمن کے قریبی کو استعمال کرنے کا فارمولہ بہترین ثابت ہوتا ہے اور اس ہی فارمولے پر عمل پیرا ہے بھارت اپنے دشمن پاکستان کے خلاف ! جی ہاں سب ہی کو معلوم ہے پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں
نواب اکبر خان بگٹی کے وزارت اعلیٰ کے دوران اور جنرل پرویزمشرف کے ابتدائی دور کے علاوہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن ہمیشہ سیاسی پنڈتوں کے زیر نگوں رہا ہے بلوچستان میں مڈل کلاسیہ حکومت کی تشکیل کے بعد سابقہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور گفتار کے غازی نے ایک مخصوص پروپیگنڈے کے تحت ایجو کیشن ایمر جنسی اور صحت غیر ایمر جنسی کے ساتھ ساتھ پبلک سروس کمیشن
بلوچستان کو خدا نے بے پناہ نعمتوں سے نواز اہے۔ یہاں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع
موجودہیں۔بلوچستان کی منفرد حیثیت کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے ۔بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جس میں معدنیات سے قدرتی حسین وجمیل وادیوں ٗ اونچے اونچے پہاڑوں ، دریاؤں اور چٹیل میدانوں سمیت صحرائے علاقوں پر مشتمل ہیں