|

وقتِ اشاعت :   5 دِن پہلے

کوئٹہ: احتساب عدالت کوئٹہ ون کے جج جناب عبدالمجید ناصر نے بلوچستان میں شعبہ قلب کے مریضوں کیلئے اسٹنٹس کی خریداری میں کروڑوں روپے گھپلے کے الزام میں گرفتار ایم ایس ڈی بلوچستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد یوسف ،اسٹنٹس فراہم کرنے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمدنوشیروان یار خان اور چیف آپریٹنگ آفیسر احمد علی اسلم کو 27ستمبر تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کے احکامات دے دئیے ہیں ۔

گزشتہ روز گرفتارملزمان کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا تو نیب کی جانب سے ملزمان کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس سے عدالت نے منظور کرتے ہوئے گرفتار ملزمان کو 27ستمبر تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کے احکامات دے دئیے ۔

واضح رہے کہ ایم ایس ڈی بلوچستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹرمحمدیوسف بزنجو اسٹنٹس فراہم کرنیوالی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمدنوشیروان یار خان اور چیف آپریٹنگ آفیسر احمد علی اسلم پر الزام ہے کہ انہوں نے 16سے 24ہزار مالیت کے اسٹنٹس میں ملی بھگت سے کروڑوں روپے کا گھپلہ کیا ہے۔

انہوں نے 16سے 24ہزار مالیت کے اسٹنٹس 90ہزار سے لیکرایک لاکھ 17ہزار روپے تک خریدے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 10کروڑروپے سے زائد کا نقصان پہنچا ۔

یہ بھی انکشاف ہواتھاکہ ہیلتھ ٹیک نامی غیررجسٹرڈ کمپنی نے ایم ایس ڈی کے آفیسران کی معاونت سے غیر ملکی اسٹنٹس مارکیٹ ریٹس سے کئی گنا زائد پر خریدے بلکہ غریب اور نادرا مریضوں کو حکومت کی جانب سے اسٹنٹس کی مفت فراہمی کی پالیسی سے بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے غریب مریضوں سے مزید اسٹنٹس ڈلوانے کی مد میں لاکھوں روپے وصول کئے گزشتہ روز گرفتار ملزمان کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جس پرعدالت نے ان کی جسمانی ریمانڈ کے احکامات صادر کئے ۔