|

وقتِ اشاعت :   4 دِن پہلے

خضدار : جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر شیخ الحدیث مولانا فیض محمد ، جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے سیکرٹری جنرل سابق اسپیکر ملک سکند خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے امریکہ و مغر بی قوتوں نے پوری دنیا کی امن کو تہہ و بالا کردیا ہے ۔

افغانستان ، لیبیا شام ، فلسطین میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون بہانے والے امریکہ کو امن کا دعوے دار ہونا زیب نہیں دیتا امریکہ نے اپنی مفادت کی خاطر ہزاروں کلو میٹر سے آکر افغانستان دیگر ممالک پر حملہ کرتا ہے فلسفہ یہ پیش کرتا کہ میں امن کے قیام کے لئے آیا ہوں جو مارنے والا ہو اپنے آپ کو پر امن کہے جس کو مار تا ہے اس کو دہشت گرد قرار دے دنیاکے کسی بھی لغت کے ڈکشنری میں دہشت گردی کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے ۔

امریکہ عالم کے اصولوں سے ہٹ کر دہشت گردی کا خود سازہ تعریف کررہا ہے جو کھلی ہٹ دہرمی ہے اس لئے امت مسلمہ کو امریکہ کی ان بد معاشیوں کو روکنے کے لئے جا گنا ہو گا ورنہ عراق ، لیبیا افغانستان اور شام کی طرح امریکہ ایک ایک کرکے ہم سب کو اپنی درندگی کا نشان بنائیگا، بر ما میں جو کچھ ہورہا ہے ۔

ا س میں امریکی رضا مندی شامل ہے انسانی حقوق کے ٹھیکداروں کو بر ما میں بد ترین ظلم و قتل غارت گری کیوں کرنظر نہیں آرہی ہے جانوروں کی نسل کشی کو جرام قرار دینے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل برما کے مسلمانوں کی نسل کشی پر کیوں خاموش ہے کیا ۔

بر می مسلمان جانوروں سے بھی بد تر ہیں پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا لیکن کچھ لوگ اس نعرہ کو دفن کرکے یہاں پر مغربی نظام حکومت کو لانے و متعارف کرانے کی کوشش کررہے ہیں جو نظریہ پاکستان سمیت ان لاکھوں شہداء کی خون سے غداری ہے جنہوں نے پاکستان میں اسلامی نظام کی نفاذ کے لئے قربانی دیا تھا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ علوم شرعیہ کوشک میں جمعیت علماء اسلام ضلع خضدار کے کارکنوں کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا تربیتی ورکشاپ سے جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا کمال الدین ، جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے معاون پریس سیکرٹری جانان آغا جمعیت علماء اسلام کے راہنما سردار عبد الجلیل سرگل زئی ، صوبائی ناظم مفتی غلام حیدر جمعیت علماء اسلام ضلع خضدار کے سیکرٹری جنرل میونسپل کارپوریشن خضدار کے ڈپٹی میئر مفتی عبد القادر شاہوانی ، ضلع خضدار کے پریس سیکرٹری مولانا بشیر احمد عثمانی و دیگر نے خطاب کیا ۔

اس سے قبل جب جمعیت علماء اسلام کے صوبائی قائدین خضدار پہنچیں تو سنی کے مقام پر جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں نے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ایک بڑے جلوس میں ان کا استقبال و خیر مقدم کیا ان کو استقبالی جلوس میں جامعہ علوم شرعیہ کوشک لایا ۔

مقررین نے کہا اس وقت مسلمانوں پر ایک انتہائی مشکل دور ہے ہر جگہ مسلمانوں کے خلاف خطرنا ک وار کا آغا ز کیا گیا ہے مسلم ممالک کا گھیراؤ تنگ کیا جارہا ہے مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اس طرح کی مشکل حالات میں علماء کرام کو اور سیاسی عمائدین کو آگے آنا ہوگا امت کے لئے ر ہنمائی کا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

اس وقت امت مسلمہ سخت ترین کرب و الم میں ہے ان چیلنجوں سے نکلنے کا راستہ علماء کے پاس ہے ان ہی پر لوگوں کا اعتماد باقی رہ گیا ہے اس لئے لوگ جو ق در جوق جمعیت علماء اسلام میں شامل ہورہے ہیں کیونکہ علماء کرام ہی اس بات کے مستحق ہیں کہ وہ قیادت کا بوجھ اٹھائیں ۔

دوسری جماعتیں اپنے ذاتی اغراض و مقاصد میں گھر کر کرپشن و بے راہ روی کے شکار ہوگئے ہیں مقررین نے کہا کہ صوبائی جماعت کی جانب سے کارکنوں کو ہدایات دی گئی تھی کہ وہ دستک پروگرام کا آغاز کریں ہر گھر میں ہر فرد کے پاس جاکر اللہ کے رسول کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے ہر مسلمان کو موجود ہ حالات سے آگاہ کریں تاکہ وہ حالات کا ادراک کرکے ایک قوت بن جائیں ۔

دوسری ہدایت صوبائی جماعت کی جانب سے اضلاع کو یہ دیا گیا تھا کہ وہ سماجی کمیٹیاں بنائیں جو سرکاری دفاتر جا کر ان لوگوں کے مسائل حل کریں جن کے مسائل ناواقفیت کی وجہ سے حل نہیں ہورہے ہیں صوبائی جماعت کے ان ہدایات کے بعد جس طرح سے پورے بلوچستان میں جماعت کو پذیرائی ملی ہے وہ اپنی مثال ہے پورے بلوچستان میں ہزاروں لوگ جن میں اکثریت قبائلی لوگوں کی ہے جماعت میں شامل ہورہے ہیں ۔

مقررین نے کہا کہ سیاست انبیا کی وارثت ہے علماء کرام انبیا کے وارث ہیں سیاست ایک ناپاک چیز ہے جب ہم ایک گھر دفتر دکان کے معاملات کو بد دیانت لوگوں کے حوالے نہیں ک کر سکتے ہیں تو مملکت کا نظام کس طرح سے بد کردار لوگوں کو حوالہ کیا جا سکتامقررین نے کہاکہ علماء کرام آگے بڑہیں انشاء اللہ ایک بہتر مستقبل جمعیت علماء اسلام کا منتظر ہے آنے والا دور جمعیت علماء اسلام ہی کا ہوگا