|

وقتِ اشاعت :   October 2 – 2013

hybiyarکوئٹہ ( پ ر) بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس قدرتی آفت کی گھڑی میں بین الاقوامی دنیا کو چاہیے کہ وہ براہ راست بلوچوں کی مدد کریں کیونکہ پاکستان امداد کی آڑ میں بلوچ سرزمین پر اپنے قبضے کو مظبوط کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچ قوم قومی جدوجہد کی شدتوں میں دشمن اور ان کے درباریوں کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی بھی جدوجہد میں قومیں اپنے قوم لوگوں اور خود پر بھروسہ کرتے ہوئے قومی جذبہ سے دشمن سے مقابلہ کرتے ہیں ۔ اور آج بلوچ قوم بھی قومی جذبہ سے دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہے اس لیے دشمن بھی زلزلہ کی آڑ لے کر چالاکی اور مکاری سے پوری دنیا کومتاثرہ علاقوں سے دور رکھنے کے لیے سکیورٹی رسک جیسے مخلتف بہانے بنا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی حوالے سے بلوچوں کی مدد کے لیے کوئی نہ آئے۔مری نے کہا کہ پاکستان بلوچوں کے نام پر بھیک مانگ کر بلوچوں کو احسان کے طور پر دیتا ہے۔ پاکستانی فوج کی کرپشن کا یہ حال ہے کہ جب پاکستان اور کشمیر میں زلزلہ آیا تو وہاں پاکستانی فوج نے متاثرین کی امداد کی آڑ میں عورتوں کے زیورات اور دیگر اشیا تک چرائے ۔ اور وہاں زلزلہ زدگان کے نام پر ڈونر کانفرنس بلائی۔ لیکن بلوچستان میں فوج اپنی فوجی حکمت عملی کے تحت بین الاقوامی دنیا کو آنے نہیں دے رہا ۔حیربیار مری نے بین الاقوامی دنیا سے اپیل کی کہ وہ خودمتاثرہ علاقوں میں جاکر لوگوں کی مدد کریں انہیں بلوچ قوم سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ حیربیار مری نے کہا کہ تمام آزادی پسند پارٹیاں اور تنظیمیں اس مشکل گھڑی میں یکسوئی سے اپنے لوگوں کی مدد کریں اور تمام آزادی پسند صرف اور صرف بلوچ قومی جذبہ کے پیش نظر کام کریں اور قومی ذمہ داری کو صحیح طریقے سے سر انجام دیتے ہوئے سب کے ساتھ یکساں سلوک کریں تاکہ ہم بلوچوں کا فیصلہ عدل و انصاف کے میدان میں بھی پورا اترے اور لوگ بلوچوں کی امداد کے لیے جو امداد دیں انکا بھی حساب کتا ب ضروری ہے کہ وہ امداد متاثرہ افراد تک پہنچ جائیں ۔ بین القوامی دنیا ان بلوچوں اور آزادی پسند تنظیموں جو کہ آواران اور مشکے میں متاثرین کی مدد کر رہے ہیں ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں ۔حیربیار مری نے کہا کہ پاکستان میں بلوچستان کے وزیر اور وزیر اعلی کو کوئی بھی اختیار نہیں بلکہ وہ سب کے سب قابض کی کٹھ پتلی کی طرح استعمال ہورہے ہیں اور سار اختیار قابض کے پاس ہے زلزلہ سیلاب اور قدرتی آفات میں پاکستان اپنے اسٹریٹجک مفادات کو سامنے رکتھے ہوئے فیصلہ کر تا ہے اسی فیصلہ کے تحت فریب دکھوکہ کا سہار ا لے کر بین القوامی اداروں کو خوفزدہ کرتے ہویے مشکے آواران میں جانے نہیں دیا جارہا ہے۔ حیربیار مری نے کہا کہ پنجاب میں چھوٹے سے قدرتی آفت آنے پر عالمی مدد مانگنے والا پاکستان آج بلوچستان میں اپنی مظالم چھپانے کے لیے عالمی اداروں کو بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد سے روک رہا ہے ۔ بلوچستان وسائل سے مالامال ہے اگر بلوچستان کے وسائل اور ملک کے حکمران بلوچ خود ہوتے تو آج بلوچ پاکستان کو بھیک دینے کے قابل ہوتا مگر بلوچ قوم کی دربدری تنگی اور بھوک افلاس کا سب سے بڑی وجہ غلامی ہے ا وراپنے وسائل پر بلوچ قوم کے دسترس کے بجائے دوسرے ا قوم کا کنٹرول ہے ۔ پاکستان نے ۶۰ سال میں پورے بلوچستان کو معاشی، سیاسی اور سماجی حوالے سے اتنا پسماندہ رکھا کہ بلوچستان فالٹ لائن پر ہونے کے باوجود اس آفات سے نمٹنے کے لیے زلزلہ پروف مکانات تک تعمیر نہ کر سکے اگر بلوچ قوم آزاد ہوتا اور اس سے اپنی وسائل پر دسترس ہوتا توانپے بے پناہ وسائل کی بدولت بلوچ قوم بھی جاپان اور دوسرے ترقی یافتہ آزاد اقوام کی طرح قدرتی آفت کے روک تھام کے لیے تدابیر کر سکتا تھا۔