|

وقتِ اشاعت :   May 13 – 2015

کراچی: کے ای ایس سی کے مقتول مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کے بیٹے عمر شاہد حامد نے کہا ہے کہ اس مقدمے کے دیگر ملزمان کو عدالت مفرورقرار دے چکی ہے، لہٰذا صولت مرزا کی پھانسی کے بعد اس مقدمے کے ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ صولت مرزا کے اہلِ خانہ نے معافی حاصل کرنے کے لیے ان سے اور ان کی والدہ کے ساتھ متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عمر شاہد نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’صولت مرزا کے اہلِ خانہ نے قصاص اور دیت آرڈیننس کے تحت معافی حاصل کرنے کے لیے حالیہ دنوں میں اور ماضی میں کئی مواقعوں پر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔‘‘ انہوں نے بتایا ’’مجھے یاد ہے کہ بہت سال پہلے ایک مرتبہ جب وہ میری والدہ کے دفتر پہنچے تھے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کی حکومت کے دوران صولت مرزا کو معاف کردینے کے لیے ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔‘‘ عمر شاہد نے کہا ’’ایک موقع پر اس وقت کے صوبائی وزیرِ داخلہ آفتاب شیخ نے مجھے کال کرکے دھمکی دی تھی۔ میری والدہ کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا اور ایم کیو ایم کی حکومت کے دوران انہیں اس ملازمت پر بحال نہیں کیا گیا۔ اس طرح کے دیگر بہت سے واقعات ہیں۔ یہاں تک کہ صولت مرزا کی اہلیہ نے اس سلسلے میں بیانات دیے جس میں کہا گیا تھا کہ بہت سی کوششیں کی گئی تھیں، لیکن ہماری جانب سے ان کی تردید کی گئی۔‘‘ صولت مرزا کا یہ اعتراف کہ وہ محض ایک کرائے کا قاتل تھا، کے حوالے سے عمرشاہد نے کہا کہ ’’یہ کہنا کہ اس کیس میں مشتبہ افراد باقی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اس کیس کے بارے میں ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ صولت نے اسی طرح کا بیان عدالت میں 1999ء کے دوران بھی دیا تھا، جس کی بنیاد پر الطاف حسین اور دیگر کو اس مقدمے میں مفرور قرار دیا گیا تھا۔ جیسا کہ وہ پاکستان سے مفرور ہیں، اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں صرف اس صورت میں لایا جاسکتا ہے، جبکہ وہ پاکستان واپس لوٹ آئیں، اور پاکستان کا برطانیہ کے ساتھ ملزموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ تاہم یہ مقدمہ اور ان ملزمان کے خلاف شواہد اب بھی کھلے ہوئے ہیں، لہٰذا صولت مرزا کے ساتھ اس مقدمے کے ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘