|

وقتِ اشاعت :   August 16 – 2015

کوئٹہ :  حقیقی وجمہوری طلباء تنظیموں بی ایس او(بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) پی ایس او ۔بی ایس او(پجار) اور پی ایس ایف نے ایک مشترکہ پالیسی بیان میں کہا ہے۔کہ جامعہ بلوچستان کے شعبہ امتحانات میں میرٹ سینارٹی کے بر عکس من پسند اقدامات کو یونیورسٹی انتظامیہ نے ترجیح دیکر دھوکہ دہی اور فریب سے کام لیا ہے۔جس طلباء پروفیسرز اور پی وی سی تک کو اندھیرے میں رکھ کر مخصوص قوتو ں کی ایماء پر شعبہ امتحانات میں جاری روایت کش حملہ کو طلباء و طالبات کے کردار کشی کا موقع دیکر حجلت و مصلحت سے کام چلایا جارہا ہے۔کیونکہ احتجاج کے حوالے سے قائم کمیٹی کو طلباء تنظیموں بحیثیت پروفیسر اور ذمدار قبول کرکے تمام اختیارات دیکر فیصلہ کا حق دیا جس کے بعد کمیٹی نے کنٹرولر امتحانات سمیت شعبہ امتحانات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور امتحانات میں کمزوریوں کی نشاندہی اور آئندہ کی حکمت عملی کا با قاعدہ شیڈول طے کیا جسے وی سی اور رجسٹرار نے طول دیکر غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش میں خود کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔کیونکہ طلباء تنظیموں نے موجودہ کرپٹ نااہل بد عنوان کنٹرولرکی موجدگی میں کسی بھی امتحانات میں شرکت سے بائیکاٹ اور کمیٹی کے اراکین کے بے بحد اصرارپر کہ کنٹرولر ک46 باقاعدہ قواعد کے مطابق مجوزہ عہدہ کی اہلیت کے مطابق تعنیات کیا جائے جس کا تجربہ اور اہلیت گریڈ سمیت اس عہدے کے معیار کا ہوگا۔لیکن تا حال ایک جونئر کو بطور کنٹرولر تحفظ دیناکرپشن کے جاری سلسلے میں ایک اہم نکتہ کی نشاندہی کر رہی ہے۔جس کیہ وجہ سے اندرونی معاہدہ فاش ہو چکی ہے۔کہ کنٹرولر کی تعنیاتی میں وی سی اور رجسٹرار نے بھاری رقم کے حوض مجوزہ پوسٹ کو گروی رکھا ہے۔کرپشن کے بڑھتے رجحانات میں اضافہ ادارے کی ساکھ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔اور یونیورسٹی کے امتحانات کو ادارے سے باہر غیر قانونی و اخلاقی طور پر رکھ کر سنٹروں کی خرید و فروخت کے امکانات کوپھر زندہ رکھا گیا ہے۔اور شعبہ ایجوکیشن کے امتحانات میں بورڈ آفس سے بلیک لسٹ خاتون کو ایک دفعہ پھر امتحانات میں بطور سپرنٹنڈنٹ ڈیوٹی پر مامور کرنا کھلی بد انتظامی کو منہ بولتا ثبوت ہے۔آخر کیوں ناکارہ بلیک لسٹڈلوگوں کو مسلسل ادارے کی سالمیت پر دھبہ لگانے کی غرض سے ترجیحات کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا۔جس سے ادارے کی تیعلمی عمل میں گراوٹ نظر آرہی ہے۔جس کی ذمداری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہو گی۔کیونکہ کمیٹیکی روح سے کنٹرولر امتحانات شعبہ امتحانات میں نا تجربہ کاری بد عہدی اور شعبہ میں براہ راست تعنیاتی سے شعببہ امتحانات کو چلانے میں ناکام ہو چکی ہے۔جسے اگست سے قبل معہادہ کے تحت واپس ان کے ابتدائی عہدہ بھیجنا قرار سزا پایا تھا۔لیکن وی سی اور رجسٹرار اور یونیورسٹی انتظامیہ نے اس اہم اشو کو دبانے کی کوشش میں یونیورسٹی کو بند کرنے اورطلباؤ کے خلاف سیاسی انتظامی اور غیر اخلاقی دباؤ کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی جوناکام ہو چکی ہے۔جسے باقاعدہ احتجاجی عمل سے بے اثر ثابت کرنے کی غرض سے طلباء تنظیموں کا ایک اہم اجلاس بلوچستان یونیورسٹی میں سوموار سترہ اگست کو صبح گیارہ بجے منعقد ہوگا۔جس میں آئندہ کا لائحہ طے کرکے احتجاج بائیکاٹ سمیت امور پر غور کرکے حتمی احتجاجی شیڈول