|

وقتِ اشاعت :   March 31 – 2016

کوئٹہ :  بلوچ نیشنل موومنٹ کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس تیسرے روز اختتام پذیرہوا ۔جس میں مرکزی کمیٹی عہدیداروں نے قومی تحریک اورپارٹی پروگرام پر مفصل بحث و مباحثہ کیا ۔اجلاس سے اختتامی خطا ب میں چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا،بلوچ قومی تحریک ایک مکمل سیاسی اور جمہوری تحریک ہے بلوچ قومی تحریک بہترین ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے اور مستقبل قریب میں اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہے ہیں لیکن اس میں زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے پارٹی کے تمام حصوں کو فعال کرنے کی ضرورت ہے ۔ریاست اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بلوچ نسل کشی کے عمل میں نئی داستانیں رقم کررہا ہے،روزانہ کی بنیاد پرلوگ اٹھائے جارہے ہیں ،بلوچ فرزند شہید کئے جارہے ہیں ۔یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ تحریک کوبلوچ قوم کی مکمل سپورٹ حاصل ہے ،دشمن کی تمام جبر و دہشت خیزیوں کے باوجوداس حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی۔کیونکہ بلوچ قوم نے اپنا رشتہ ریاست کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ صرف غلام اور قابض کا رشتہ ہے جس سے نجات کے لئے قوم انمول قربانیوں کی تاریخ رقم کررہا ہے ۔ہم 2003یا 2004سے لے کر اب تک کے دورانیہ کو دیکھتے ہیں تو ہماری کامیابیاں انتہائی حوصلہ افزاء ہیں ۔کیایہ کامیابیاں کسی غیبی قوت یا پہلے سے موجود کمیٹڈ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی بڑی کیمپس کی انضمام کا نتیجہ ہے ایسا نہیں بلکہ یہ کامیابیاں اُن عظیم ہستیوں کی بصیرت اور دوررس نگاہوں کی دین ہے جنہوں نے پارٹی اوراداروں کو بنیاد یں فراہم کرکے ہمارے لئے کامیابیوں کے راستے کھول دیئے ۔غلام محمد نے کبھی شخصیت کو جدوجہد کا محور بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ان کا ماننا تھا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ طاقت حاصل کرے گا تویہ قومی پلیٹ فارم بن جائے گا اور اسی مورچے پر قوم اپنی آزادی کی تحریک چلائے گااور تحریک ماضی کے برعکس اپنی تسلسل کو برقرار رکھ پائے گا۔دشمن کی انسانیت سوز مظالم کے باوجودبلوچ قوم کی عزم ،تحریک سے مکمل وابستگی اور سیاسی ادارے اپنی فہم و بصیرت اور اجتماعی فیصلوں سے دشمن کی منصوبوں ،سازشوں کو ناکام بناکر قومی منزل پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے کیڈراور کارکن بلوچ قوم کے شایان شان ادارہ بنائیں تاکہ تاریخ کے اس اہم موڑ پر اپنی قومی عظمت ،تہذیب و ثقافت ،قومی تشخص ،بے کراں جغرافیہ اور اس کی اہمیت اور منفرد محل ووقوع کے تحفظ اور بقاء کی ذمہ داری کا فریضہ ادا کرسکیں اور اپنے ہائی پروفائل لیڈر اور انمول کارکنوں کی شہادتوں سے وجود میں آنے والے خلاء کی کرب قومی جدوجہد کے روح کو مجروح نہ کرسکے ،ہم ان کی نعم البدل بن جائیں ۔بلوچ نیشنل موومنٹ کی قیام کا مقصدمحض قومی موقف کی اظہار تک محدود نہیں ہے بلکہ تحریک کو ایسی مضبوط بنیادیں فراہم کرنا ہے جہاں ہمیں ناکامیوں کا خطرہ نہ رہے ،ہمیں تسلسل کو ٹوٹنے کا خطرہ نہ رہے ،ہمیں ماضی کے تجربات سے دوچار ہونے کا خطرہ نہ رہے بلکہ میں ورکروں سے یہی کہتا ہوں کہ جب انسان خودشناسی اور خود آگاہی کے مراحل کو طے کرے تو اس کے لئے ہمیشہ ناممکن ،سہل اور آسان ہوجاتی ہے۔ آج قومی تحریک کابھاری بوجھ ہماری کندھوں پر ہے ہمیں مشکلات کے بیچ اپنی کامیابی کے راستوں کی تعین کی ضرورت ہے ۔سیاسی ورکر اور سیاسی کیڈرکا بنیادی کام نہ صرف اپنی بلکہ قوم کو اس کی عظیم طاقت کی پہچان اور اسے روبہ عمل لانے میں ان کی رہنمائی ہے ۔ایسے پیچیدہ اور کھٹن حالات میں ہمیں ذمہ داریوں کوقومی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ۔بلوچ قوم نے ایک طاقت ور دشمن کا مقابلے کرتے ہوئے اپنے قابل فرزندوں کی شہادت اورسائل کی نایابی کے باوجود نہ صرف دنیا میں اپنی تحریک کو آرگنائز رکرنے اور قومی مسئلے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ اسے اپنی قومی اور نظریاتی کامیابی سمجھتے ہیں کہ دنیا کے سنجیدہ حلقوں کو بتدریج احساس ہورہا ہے کہ مذہبی شدت پسندی کا مقابلہ اور خطے کے دیگر تنازعات کا حل قومی سوالوں کے حل اور نیشنلزم کے نظریعے میں پنہاں ہے جو بلوچ قومی موقف کی صداقت کی غماز ہے ۔مگر ہمارا قومی دشمن مکمل غیر سیاسی ،غیرجمہوری اور قومی اقدار سے محروم اور جبر کا قائل ہے اور ہر قوم کے ساتھ مسائل صرف بندوق کی نالی سے کرنے پر کاربند ہے۔سینٹرل کمیٹی میں مندرجہ ذیل فیصلے کئے گئے ۔1:۔مرکزی کمیٹی کے معطل ممبر بانک فریدہ کی سینٹرل کمیٹی سے معطلی کی توثیق سے خالی نشست پر کو ان کی جگہ پرماسٹرکمال اکثریت رائے منتخب کیا گیا۔2:۔مرکزی کمیٹی کے اراکین محمد صالح اور بابو جنید کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کمیٹی سے توثیق کے بعد ان کی خالی نشستون پر بالترتیب فیض بلوچ اوربارگ بلوچ کو اکثریت رائے سے منتخب کیا گیا۔3:۔پارٹی پبلی کیشنز میں بلوچی زبان کے وہ رسم الخط استعمال کرے گا جس میں بلوچی زبان کے تمام لہجوں کی نمائندگی ہو۔ 4:۔ ڈاکٹرجلال بلوچ کی سربراہی میں ریسرچ ،ڈیٹا کلیکشن اینڈ ٹریننگ کمیٹی قائم کی گئی جو انفارمیشن سیکریٹری کی ماتحت ہوگا۔5:۔وائس چیئرمین کی سربراہی میں قائم چاگردی واحتسابی کمیٹی اپنی خالی نشست کو پر کرنے کے علاوہ اس کمیٹی کے لئے جامع قوائط و ضوابط کو تحریری شکل میں تین مہینے کے مدت کے اندر چیئرمین یا سیکریٹری جنرل کو پیش کرے گا۔6:۔چاگردی کمیٹی سابقہ سرکولر کے مطابق تمام دمگ و ھنکین اپنے اپنے علاقوں میں چاگردی تنازعات کی تصفیے کے لئے کمیٹی کے سربراہ اوراس کے اراکان سے رابطہ کریں ,وہ ازخود کسی قسم کے فیصلے کا اختیار نہیں رکھتے ۔اگر کمیٹی کسی دمگ یا ھنکین کے رکن کو کسی معاملے کی تصفیے کا اختیار دیتا ہے تو اسے پورا کرنے کا پابند ہے ۔7:۔پارٹی کو فعال بنانے اور تنظیمی امورمیں بہتر پیش رفت کے لئے مختلف دورہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔