|

وقتِ اشاعت :   April 5 – 2016

کوئٹہ: بلو چستان نیشنل پا رٹی کے رہنما ؤں نے کہا ہے کہ حکمران پا رٹی کی مقبو لیت سے خو فزدہ جس کے با عث کا رکنوں کو تشدد کا نشا نہ بنا یا جا رہا ہے بلکہ انہیں ہرا ساں کر نے اورگرفتا ر کر کے غا ئب کئے جا نے کا بھی سلسلہ جا ری ہے بی این پی ایک جمہو ری پا رٹی ہے اور جمہو ریت پر یقین رکھتی ہے صو بے کے عوا م کے لیے کے حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد جار ی رکھئے گئے۔،بلو چستا ن کا مسئلہ سیا سی ہے اور سیاست کے ذریعے عوا م کے ساتھ مل کر صو بے کا مسئلہ حل کر رہے گئے،صو بے میں جار ی قتل و غارت کی شد ید الفا ظ میں مذ مت کر تے ہے ،8اپر یل کو صو بے بھر میں پا رٹی کی جا نب سے شٹر ڈوا ن ہڑ تا ل کیا جا ئے گا تا جر برادی ،سیا سی سما جی تنظیم اور عوام ہڑ تا ل کو کا میا ب بنے میں ہمارا سا تھ دیں ان خیالات کااظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئرنائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغاحسن بلوچ،ضلع کوئٹہ کے صدر اخترحسین لانگو ،فوزیہ مری ،غلام نبی مری،موسیٰ بلوچ ودیگر نے پارٹی کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیامقررین کاکہناتھاکہ بلوچستان میں مخصوص عوامی نمائندوں کو اکھٹاکرکے وزارتیں دی گئی ایسا اس لئے کیاگیاتاکہ انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیاجاسکے بلوچستان نیشنل پارٹی پہلے اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہوئی ہے اورنہ ہی اب ایسا ہوگا بلکہ عوام اورقومی حقوق کیلئے جدوجہد جاری وساری رہے گی مقررین نے کہاکہ حب میں تا ریخی جلسہ عام کر نے اور وڈھ میں میڈیکل کیمپ کے انعقاد سے پا رٹی کی مقبو لیت میں بے پنا ہ اضا فہ ہو ا جس کے بعد مو جو دہ نا م نہا د حکمرا نوں اور فورسز نے خا ئف ہو کر نہ صرف حب میں ان کے پا رٹی عہدیداران کو ہرا ساں کر نا شروع کیا بلکہ شہر بھر میں ان کے پا رٹی جھنڈے بھی اتا رے گئے اس کے ساتھ ساتھ ان کے حب میں پا رٹی سکرٹریٹ سے بو رڈ بھی اتار لیا گیا ہے جو قا بل افسوس و مذمت امر ہے،انہوں نے کہا کہ کا میا ب جلسے کے بعد ہما رے ضلع لسبیلہ کے عہدیداران کو تشدد کا نشا نہ بنا نے اور انہیں ہرا ساں کر نے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، انہوں نے الزام عا ئد کیا کہ حب میں کا لعدم مذہبی و دیگر تنظیموں کے جھنڈوں کو کو ئی ہا تھ نہیں لگا رہا جبکہ ان کی جما عت کو ٹا رگٹ کیا جا رہا ہے ،ان کا قصو ر صرف اتنا ہے کہ وہ جمہو ری سیا ست پر یقین رکھتے ہیں اور اسی کے ہی راستے وہ قو می جدو جہد کو آ گے بڑھا رہے ہیں ، ان کاکہناتھاکہ اس وقت حکمران بی این پی کی مقبولیت سے خائف ہوکر اس سے بند گلی میں دھکیلنے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمدہونگے، حب میں تا ریخی جلسے کے ساتھ ساتھ پا رٹی کی جانب سے وڈھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں 16ہزار مریضوں کو مفت علا ج و معا لجہ کی سہو لیا ت دی گئی جس سے پا رٹی کی وہاں مقبو لیت میں مزید اضا فہ ہوا مگر اس کے بعد ہما رے تین کا رکنوں کو سا رو نہ کے علا قے سے اغوا ء کر کے لا پتہ کر دیا گیا جن کی خضدار کے علا قے سے نعشیں ملی ہیں ،انہوں نے کہا کہ صو بہ بھر میں ما ورا ئے آ ئین و قا نو ن اقدا ما ت جا ری ہیں مگر اس سلسلے میں کو ئی نو ٹس لینے والا نہیں ہم کہتے ہیں کہ بلوچستان کامسئلہ سیاسی ہے جس سے جمہوری وسیاسی راستے سے ہی حل کیاجاسکتاہے تاہم مقتدرہ کی جانب سے اس وقت بھی طاقت کابے دریغ استعمال کیاجارہاہے جوسب کے سامنے ہے اس طر ح کے اوچھے ہتھکنڈو ں سے نہ ہی ہماری جدوجہد کمزور ہوگی اورنہ ہی قومی جدوجہد سے دستبردارہونگے بلکہ پارٹی قائد سرداراخترجان مینگل اوردیگر کی راہ پرچلتے ہوئے بلوچ قومی جدوجہد کو بہر صورت جاری رکھاجائیگا۔