|

وقتِ اشاعت :   April 5 – 2016

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و سنیٹرمیر کبیر محمد شہی نے کہا ہے کہ دنیا میں کہی پر ایسا قانون نہیں ہے کہ تھرڈ ڈویژن کے طالبعلموں کو سکالرشپ اور دیگر مراعات میں نظر انداز کیا جائے ایچ ای سی حقائق کو چھپانے کے بجائے بلوچستان کے کوٹے پر بلوچستانیوں کو تعنیات کریں نہ کہ جعلی ڈومیسائل کے حامل امیدواروں کو جن کو بلوچستان کی تلفظ ادا کرنا بھی صحیح طور پر نہیں آتی ان کوسینٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے کوٹے پر کوئی درخواست جمع کرتا جو کہ مضحکہ خیز بات ہے یہ بات انہوں نے گزشتہ روز بلوچستان کے طلباء کے وفد سے بات چیت کرتے کہی جنہوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے درپیش اپنے مسائل سے ان کو آگاہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ بلوچستان کے طلباء ایچ ای سی کے سکالرشپ پروگراموں کے لیے اپلائی نہیں کرتے اگر بلوچستان کے لیے مختص سیٹوں کی اشتہارات اسلام آباد کے اخبارات میں دیے جائیں گے تو بلوچستان میں بیٹھ کر کس کو پتہ چلے گا کہ بلوچستان کے لیے اسکالرشپ آئی ہے ؟انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے وفاق کو جو تجاویز دی وہ بلوچستان کے لوگوں کی دل کی آواز تھی سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو تجویز دی تھی کہ ایچ ای سی بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات میں مدد کے لیے آگے آئے اور بلوچستان کے اعلیٰ تعلیم کی بہتری کے لیے معروف ماہرین تعلیم پر مشتمل اسپیشل ٹاسک فورس بنائی جائے جس پر ٹاسک فورس تو بناگیا لیکن اس ٹاسک فورس کے ممبران صوبے کا دورہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ملک کے ہر شہری کا تعلیم حاصل کرنا بنیادی حق ہے بالکل اسی طرح ہر بلوچستانی کو بھی یہ حق حاصل ہے لیکن ماضی میں بدقسمتی سے وفاقی سطح پر صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لیے کوئی خاص اقدامات حکومتی سطح پر نہیں اٹھائے گئے تاکہ یہاں کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مواقع میسر آتے انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہاہے کہ ملک میں رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا پی ایچ ڈی اسکالرشپس میں وفاقی دارالحکومت سے بھی کوٹہ کم رکھا گیا ہے جو کہ نہ صرف بلوچستان کے طالبعلموں کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ اعلیٰ تعلیم کی حصول سے قابل اور ہونہار طالبعلموں کو روکنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن اپنے قیام سے لیکر آج تک صرف ایک ارب 72کروڑ روپے دیتا ہے جبکہ اس کے چار گنا بڑی رقم یعنی 4ارب 83کروڑ روپے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو دیتا ہے تو اس سے یہ بات ظاہرہوتی ہے کہ ایچ ای سی بھی بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ نہیں ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس طرح تعلیمی طور پر ماضی میں بلوچستان کو پسماندہ رکھا گیا وہاں کے نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں دوسرے صوبوں کے برابر موقع فراہم کرکے ان کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیتیں فراہم کی جاتی انہوں نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ایچ ای سی اپنے بلوچستان کے حوالے سے مختص کرنا فنڈز کے بارے میں نظرثانی کرے تاکہ بلوچستان کے طلباء کی حق طلفی روکی جاسکے اور ان کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مواقع میسرآسکے نہیں تو یہ مسئلہ سینٹ میں تحریک جمع کرائی ہے ۔