|

وقتِ اشاعت :   April 6 – 2016

کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان تعلیمی پسماندگی کے باعث بلوچ پشتون طلباء ملک کے دوسرے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے بعض اوقات ایسے واقعات رونما ہو جا تے ہیں جس کی وجہ سے بلوچ پشتون طلباء کے تعلیم میں رکاؤٹ پیدا ہو جاتی ہے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی ختم کر نے میں اپنا کردار ادا کرے ان خیالات کا اظہار پشتون بلوچ کونسل کمیٹی کے چیئرمین اور عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، نیشنل پارٹی کے سینیٹر کبیر محمد شہی، جمعیت علماء اسلام کے رکن قومی اسمبلی مولوی امیرزمان، ہزارہ ڈیمو کرٹیک پارٹی کے رہنماء احمد علی اور اے این پی کے مرکزی رہنماء رشید خان ناصر نے پنجاب یونیورسٹی میں پشتون بلوچ کونسل کے طلباء کے اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر رکن قومی اسمبلی عیسیٰ محمد نوری، سینیٹر داؤد خان اچکزئی، سابق صوبائی وزیر تعلیم عبدالواحد صدیقی، نیشنل پارٹی کے رہنماء عبدالخالق بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء ملک نصیر شاہوانی،اے این پی کے رہنماء سید میر علی آغا، بی این پی کے رہنماء ملک عبدالمجید کاکڑ بھی موجود تھے رہنماؤ ں کہا ہے کہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ بلوچ پشتون طلباء اور سیاسی جماعتیں اتحاد کا مظاہرہ کرے کیونکہ اتحاد ہی کے ذریعے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں اور آج کے اجتماع نے پشتون بلوچ اتحاد کی یاد تازہ کر دی کیونکہ ماضی میں بھی ہمارے اکابرین نے مخالفین کا اتحاد کے ذریعے ہی ڈٹ کرمقابلہ کیاانہوں نے کہا ہے کہ جب تک ہم متحد نہیں ہو تے اس وقت تک ہم کبھی بھی حقوق حاصل نہیں کر سکتے صوبے میں تعلیمی معیار مکمل طور پر تباہ ہے اور ہمارے صوبے سے تعلق رکھنے والے طلباء وطالبات مجبوری کی عالم میں ملک کے دوسرے صوبوں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر تے ہیں لیکن بد قسمتی سے بعض اوقات ایسے واقعات رونما ہوجا تے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعلیمی معیار میں رکاوٹیں پیدا ہو جاتی ہے انہوں نے کہا ہے کہ دوسرے صوبے ہمارے ساتھ تعلیمی حوالے سے تعاون کرے کیونکہ بلوچستان پہلے ہی غربت، جہالت اور پسماندگی کی وجہ سے مختلف مسائل کا شکار ہے انہوں نے کہا ہے کہ دوسرے صوبوں کو چاہئے وہ بلوچستان کے سیٹوں کو اپنے یونیورسٹیوں اور کالجوں کے کوٹے میں اضافہ کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ بلوچستان کے طلباء یہاں سے تعلیم حاصل کر سکے انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی بھی شخص کہی جاکر اپنی تعلیمی اور روزگار کر سکتے ہیں بلوچستان وسائل سے مالاما ل ہے لیکن حکمرانوں نے ان وسائل کو بے دردی سے لوٹ کر ہمیں پسماندہ رکھا اور اب وقت کی ضرورت ہے کہ ہم متحد ہو کر تمام تر حالات کا مقالبہ کر سکے ۔