|

وقتِ اشاعت :   April 7 – 2016

کوئٹہ: محکمہ ریلوے کی جانب سے گوادر میں کنٹینر یارڈ کیلئے اراضی کی رقم ڈپٹی کمشنر کو دئیے جانے کے باوجود بھی اراضی مالکان کو ادائیگی ممکن نہ ہوسکی جس کی وجہ سے انہیں پریشانی کاسامناہے واضح رہے کہ محکمہ ریلوے نے سال 2008میں گوادر کے موزہ سربند میں 70ایکڑ زمین کنٹینریارڈبنانے کیلئے خریدی جبکہ 27ایکڑزمین کاحکومت بلوچستان نے لینڈایکوزیشن ایکٹ کے تحت بندوبست کرایاسال 2010کو اراضی مالکان کو کل رقم کی 25فیصد ادائیگی کی گئی اور 75فیصد رقم کی ادائیگی 6سال تک نہیں کی جاسکی تاہم 25جنوری 2016کو محکمہ ریلوے کی جانب سے اراضی مالکان کو 75فیصد رقم کاچیک ڈپٹی کمشنر گوادر کو بھجوادیاگیاجوانہیں 4فروری 2016کوموصول ہوا تاہم اب تک اراضی مالکان کومذکورہ رقم کی ادائیگی نہیں کی جاسکی ہے جس کی وجہ سے انہیں پریشانی کاسامناہے رقم کی بذریعہ چیک مالکان کوادائیگی سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے محمدحنیف گل نے بتایاکہ گوادرمیں ریلوے یارڈ کیلئے زمین خریدی گئی تھی تاہم اس سلسلے میں زمین مالکان کی بقایا رقم محکمہ کے ذمے واجب الادا تھی اس بابت انہوں نے محکمہ کے وزیراوردیگر متعلقہ حکام سے بات کی توانہوں نے فوری طور پر رقم کی ادائیگی کیلئے64کروڑ73لاکھ 83ہزار 826روپے کاچیک بذریعہ ڈاک بھجوایا جس سے یہاں سے گوادر بھجوادیاگیاہے تاہم دوسری جانب اراضی مالکان نعمت اللہ ودیگر کاکہناہے کہ انہیں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے رقم کی ادائیگی نہیں کی جاسکی ہے اس سلسلے میں محض طفل تسلیوں سے کام لیاجارہاہے اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو وہ دیگراراضی مالکان کیساتھ مل کر احتجاج کرنے پرمجبور ہونگے جس کی تمام ترذمہ داری ضلعی انتظامیہ پرعائد ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں ہم نے وفاقی وزیرریلوے اوروزیراعلیٰ بلوچستان کوبھی آگاہ کیاہے جنہوں نے بھی ڈپٹی کمشنر کے رویے پر ناپسندگی کااظہارکرتے ہوئے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ فوری طورپر رقم کی ادائیگی کوممکن بنایاجائیگاتاہم ایساہوتادکھائی نہیں دے رہاجوافسوسناک آمر ہے ۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوا در سے با ت کر نے کے لئے کو ششیں کی گئی جو با ر آ ور ثا بت نہ ہو سکی ۔