|

وقتِ اشاعت :   April 7 – 2016

کوئٹہ: مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ علامہ پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ لاشوں اور مسنگ پرسنز سے معاملات ٹھیک نہیں بلکہ معاملات خراب ہوجاتے ہیں گزشتہ کئی سال سے ملک میں دہشت گردی ہے ضرب عضب کو کافی حد تک کامیاب کہا جاسکتا ہے تاہم دہشتگردی کو ایک دم جڑ سے اکھاڑنا مشکل ہے وسیع و عریض رقبے پرپھیلے ہوئے دشمن سافٹ ٹارگٹ پر حملہ کرتے ہیں آپریشن ضرب عضب جلد ختم ہونے والا نہیں ہے ملک میں انٹیلی جنس کوارڈی نیشن کی کمی ہے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام آدمی تک صحیح طرح نہیں پہنچا ۔یہ بات انہوں نے بدھ کی رات مرکزی جمعیت اہلحدیث کی جانب سے بلوچستان کی سیاسی جماعتوں ،تاجر تنظیموں اور صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ عشائیے میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر نوابزادہ عمر فاروق کاسی ، جمعیت علماء اسلام کے مولانا ولی محمد ترابی ، ملک سکندرایڈووکیٹ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساجد ترین ایڈووکیٹ،جمعیت نظریاتی کے قاری مہراللہ ،بیت المال کے چیئرمین عطاء اللہ محمدزئی ، مولوی عطاء الرحمن ،مذہبی اسکارلراقبال خلجی ،مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ،حضرت اچکزئی ،یاسین مینگل ،جمعیت اہلحدیث بلوچستان مولانا علی محمد ابوتراب مولانا عبدالغنی ضامران مولانا عبدالرزاق خارانی، مولانا عصمت اللہ سالم نجیب اللہ عابد اوردیگر نے شرکت کی۔سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا لیکن اب ملک میں لبرازم کا نعرہ لگایا جارہا ہے یہ ملک کی بنیاد پر حملہ ہے ہم دین اور ملک کے ساتھ کھڑے ہیں جوانکے مفاد میں ہوگا اسکا ساتھ دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حقوق نسواں بل یکطرفہ ہے اس میں مرد کی ذلت و رسوائی کی گئی ہے اور بغیر کسی ثبوت کے مرد کو سزادی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات چاہتے ہیں تاہم مسئلہ کشمیر اور پانی کی تقسیم کے مسئلے کے حل تک بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے ایران اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے ہمارے تعلقات کو نقصان پہنچا لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کرداراد اکرنے سے ماحول بہتر ہوسکتا ہے سعودی عرب پاکستان کے بہترین دوستوں میں سے ایک ہے سعودی حکومت نے ہمیشہ پاکستان کاساتھ دیا ہے دہشت گردی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے ملک میں دہشت گردی ہے اگر لوگوں کی برین واشنگ کرکے مفادات کا ڈھول نہ پیٹاجاتا تو آج حالات بہتر ہوئے کچھ عرصہ قبل مذاکرات کی بات بھی کی گئی لیکن دونوں طرف کی کوتاہیوں کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے اور آیٖریشن ضرب عضب اتفاق رائے سے شروع کیا گیا جو کہ کافی حد تک کامیاب ہوا ہے لیکن کچھ عرصے کے سکون کے بعد کوئی نہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہوجاتا ہے دہشت گردی کو ایک دم جڑ سے اکھاڑنا مشکل ہے دشمن وسیع وعریض علاقوں میں چھپ کر وار کرتے ہیں آپریشن ضرب عضب بہت جلد ختم ہونے والا نہیں ہے اور نہ ہی اسکے آٰفٹر شاکس ختم ہونگے لیکن مجموعی طور پرحالات میں بہتری آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال کی حدود ہونی چاہئے شورش زدہ علاقوں میں فوجی کارروائی ضرور ہونی چاہئے تاہم مسنگ پرسنز اور مسخ شدہ لاشوں سے معاملات ٹھیک نہیں مزید خراب ہوجاتے ہیں اس بات پر آرمی چیف نے بھی اتفاق کیا تھا کہ مسخ شدہ لاشیں اورمسنگ پرسنز معاملات کا حل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اقتصادی بدحالی ہے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچ رہا ہے اور نہ ہی عام آدمی کو ریلیف دیا جارہا ہے تاجر اپنی من مانی کرکے قیمتیں بڑھاتے ہیں اور مختلف جواز پیش کرتے ہیں حکومت کو چاہئے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کرکے قیمتوں پرقابو پائے۔پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر ترجیح بنیادوں پرکام کا اعلان روز اول سے کیا جاناچاہئے تھا کیونکہ اتنے بڑے منصوبے کو متنازعہ بنانا دوطرفہ مفادات کے حق میں نہیں ہے چین نے بحیثیت اہم ہمسایہ اوردوست کے اس منصوبے کو شروع کیا ہے ہمیں اس منصوبے کو متنازع بناکر ملک کے امیج کو خراب نہیں کرنا چاہئے۔