|

وقتِ اشاعت :   April 9 – 2016

کوئٹہ :  نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار کمال خان بنگلزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان جو کہ ملک کے پسماندہ صوبوں میں شمار ہوتا ہے کہ کوٹے کے مختص ملازمتیں اگر جعلی ڈومیسائلز کے ذریعے دینے کا سلسلہ نہ روکا گیا توشدید احتجاج کریں گے ایک جگہ تو وفاقی ملازمتوں میں ہمارا کوٹہ صرف چھ6فیصد رکھا گیا ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔دوسری جانب حالت یہ ہے کہ بلوچستان کے کوٹہ پر 70 فیصد ملازمتیں جعلی ڈومیسائل کے ذریعے دی جا چکی ہیں۔ یہ بات انہوں نے بلوچستان کے نوجوانوں کے ایک وفد سے کہی انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں بدقسمتی سے بلوچستان کو ملازمتوں میں نہ تو وہ حصہ دیا گیا جس سے یہاں کی نوجوانوں کی احساس محرومی ختم ہو بلکہ 6فیصد کوٹے پر بھی ماضی میں یہاں تعنیات صوبے سے باہر کے آفیسران نے اپنے رشتے داروں کو تعنیات کیا ضرورت اس آمر کی ہے کہ اسٹبلشمنٹ ڈویژن بلوچستان کے کوٹے پر ملازمتیں کرنے والوں کے ڈومیسائلز دوبارہ تصدیق کے لیے تمام اضلاع کو ارسال کریں۔بلوچستان کا 6 فیصد اصل کوٹہ یہاں کی نوجوانوں سے زیادتی ہے انہوں نے کہا کہ بارہا مختلف فورم پر وفاقی اداروں کے سامنے یہ سوال انہوں نے رکھا ہے اور ان سے پوچھا کہ وہ ان کو سمجھائیں کہ وہ بلوچستان کا 6 فیصد کوٹہ کیسے نبھا رہے ہیں۔اور بھرتی کا طریقہ کار کیا ہے؟ لیکن تاحال ان کو مطمئین نہیں کیا جاسکا انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کے اپنے بچے بے روزگار جبکہ دوسرے صوبوں کے لوگ بلوچستان کی شہریت کے جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ بنوا کر بلوچستان کے بچے کوٹہ پہ نوکریاں حاصل کر لیتے ہیں۔اور بعد میں یہ آفیسران بلوچ ہونے کا دعوی کرکے کے خدمات سرانجام دیتے ہیں جبکہ حالت یہ ہوتی ہے کہ بلوچستان کا تلفظ وہ صحیح طرح وہ ادا نہیں کرسکتے بلوچستانی ہونا تو دور کی بات ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وفاقی حکومت کی ملازمتیں ملک کے چاروں صوبوں اور وفاق کے زیرِانتظام علاقوں میں آبادی کی بنیاد پروضع کردہ نظام کے تحت تقسیم کی جاتی ہیں۔ ملک کے وسیع لیکن سب سے کم ترقی یافتہ اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹے صوبے بلوچستان کیلئے وفاقی ملازمتوں میں حصّہ 6 فیصد ہے۔اور اس کی حالت یہ کہ اس کوٹے میں بھی حقیقی بلوچستانیوں کو ایک فیصد کوٹہ بھی نہیں ملتا۔