کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر اور قائد حزب اختلاف مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ حکومت کی کارکردگی اس بات سے ظاہر ہو تی ہے کہ اس سال بھی 30 ارب روپے لیپس ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ حکومت میں ایسے جماعتیں شامل ہے جوصوبے کی ترقی نہیں چاہتے اور نہ ہی فنڈز خرچ کر نے کا طریقہ سمجھ میں آتا ہے حکومت میں شامل دو جماعتیں حکومت چلانے کے اہل نہیں ہے عوام کو 3 سال سے نہ تو بنیادی سہولیات فراہم کی اور نہ ہی بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کئے 14 اپریل کو قلعہ سیف اللہ میں جمعیت کانفرنس ہو گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف وفود سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ صوبے کے عوام کی خدمت اور صوبے کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کیا2013 کے انتخابات میں بھی جمعیت علماء اسلام کو ایک منصوبے کے تحت عوامی مینڈیٹ سے محروم رکھا لیکن جمعیت علماء اسلام حکومت ہو یا اپوزیشن عوام کی خدمت جاری رکھیں گے اور ہمیں عوام کی خدمت سے دور رکھنے والوں نے نام نہاد قوم پرستوں کو حکومت حوالے کیا جن کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے ترقیاتی مد میں خرچ ہونے کی بجائے لیپس ہو جا تے ہیں اور اس سال بھی30 ارب روپے لیپس ہونے کا خدشہ ہے14 اپریل کو قلعہ سیف اللہ میں جمعیت کانفرنس منعقد ہو گی جسے پارٹی کے مرکزی صوبائی قائدین خطاب کرینگے اور یہ کانفرنس ضلع قلعہ سیف اللہ میں اچھے اثرات مرتب کرینگے قلعہ سیف اللہ سمیت دیگر علاقے جمعیت علماء اسلام کی گڑھ بن چکے ہیں انہوں نے کہاہے کہ نام نہاد قوم پرستوں کے دور حکومت میں سانحہ مستونگ ، سانحہ مسلم باغ اور سانحہ بی ایم سی جیسے سانحات رونما ہوئے لیکن اب بھی وہ امن وامان اور حکومت کی بہتری کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں جو کہ عوام نے مسترد کر دیا۔