پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا مجوزہ نقشہ—۔فوٹو/ پلاننگ کمیشن آف پاکستان۔
انہوں نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ فی الحال وہاں تجارت نہ ہونے کے برابر ہے تاہم انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ اس میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ان کی خواہش ہے کہ گوادر خطے کا اہم تجارتی مرکز بن جائے۔
حکام کے مطابق گوادر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا مرکز ہے جس کے تحت چین کو پاکستان کے ذریعے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ تک آسان رسائی مل جائے گی۔
اس بندرگاہ کو 2007 میں چین کی مالی معاونت سے 24.8 کروڑ ڈالرز میں تعمیر کیا گیا تھا۔
زانگ کے مطابق ابتدائی طور پر ماہی گیری کی صنعت توجہ کا مرکز بنے گی جس کے لیے جدید طرز کا پراسیسنگ پلانٹ لگایا جائے گا۔
‘رواں سال گوادر بندرگاہ کام کرنا شروع کر دے گی’
![]()
وقتِ اشاعت : April 12 – 2016
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا مجوزہ نقشہ—۔فوٹو/ پلاننگ کمیشن آف پاکستان۔
انہوں نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ فی الحال وہاں تجارت نہ ہونے کے برابر ہے تاہم انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ اس میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ان کی خواہش ہے کہ گوادر خطے کا اہم تجارتی مرکز بن جائے۔
حکام کے مطابق گوادر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا مرکز ہے جس کے تحت چین کو پاکستان کے ذریعے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ تک آسان رسائی مل جائے گی۔
اس بندرگاہ کو 2007 میں چین کی مالی معاونت سے 24.8 کروڑ ڈالرز میں تعمیر کیا گیا تھا۔
زانگ کے مطابق ابتدائی طور پر ماہی گیری کی صنعت توجہ کا مرکز بنے گی جس کے لیے جدید طرز کا پراسیسنگ پلانٹ لگایا جائے گا۔