دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہیکہ چین گوادر میں سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے بھی بلند ہے ۔ ایک ملک دوسرے برادر ملک کے ساتھ ہر طرح کی معاونت کیلئے تیار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر بندرگاہ کے دورے کے موقع پر چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے صدر Zhang Bao Zong اورگوادر پورٹ اتھارٹی کے چیرمین دوستین خان جمالدینی کی طرف سے دی گئی بریفنگ کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر COPHC کے چیرمین کا کہنا تھا کہ چین گوادر میں سرمایہ کاری سمیت سوشل سیکٹر میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ چین کا پاکستان کے ساتھ دیرینہ اور دیرپاء تعلقات ہیں چینی حکومت تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے سوشل سیکٹر کے مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کریگی اور چین گوادر کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے جن میں صنعت ، تعلیم ، صحت اور سوشل سیکٹر کے شعبے شامل ہیں۔ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے گوادر اور کرامے سٹی چین کے درمیان سسٹر سٹی ریلیشن شپ کے تحت مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ چیرمین گوادر پورٹ اتھارٹی دوستین خان جمالدینی نے کہا کہ گوادر بندرگاہ اپنی محل وقوع اور جغرافیائی اہمیت کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا ہیکہ گوادر بندرگاہ کی تکمیل کے بعد عالمی تجارت کے حوالے سے گولڈن گیٹ وے ثابت ہوگا۔ جہاں بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ گوادر بندرگاہ پاکستان کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا اور یقینی طور پر ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا ۔ گوادر بندرگاہ کی ترقی یہاں کے عوام کی ترقی ہے۔ گوادر کی ترقی میں سب سے پہلا حق یہاں کے مقامی لوگوں کا ملے گا ، گوادر بندرگاہ کی ترقی پاکستان کو پورے خطے کا اقتصادی مرکز بنا دیگی ۔ جس سے ملکی معیشت ناقابل تسخیر بن جائیگی
اقتصادی راہداری منصوبوں میں گوادر کے مقامی لوگوں کی شرکت یقینی بنائیں گے ،سرمایہ کار بلوچستان آئیں مکمل تحفظ فراہم کرینگے، نواب زہری
![]()
وقتِ اشاعت : April 14 – 2016
دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہیکہ چین گوادر میں سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے بھی بلند ہے ۔ ایک ملک دوسرے برادر ملک کے ساتھ ہر طرح کی معاونت کیلئے تیار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر بندرگاہ کے دورے کے موقع پر چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے صدر Zhang Bao Zong اورگوادر پورٹ اتھارٹی کے چیرمین دوستین خان جمالدینی کی طرف سے دی گئی بریفنگ کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر COPHC کے چیرمین کا کہنا تھا کہ چین گوادر میں سرمایہ کاری سمیت سوشل سیکٹر میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ چین کا پاکستان کے ساتھ دیرینہ اور دیرپاء تعلقات ہیں چینی حکومت تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے سوشل سیکٹر کے مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کریگی اور چین گوادر کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے جن میں صنعت ، تعلیم ، صحت اور سوشل سیکٹر کے شعبے شامل ہیں۔ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے گوادر اور کرامے سٹی چین کے درمیان سسٹر سٹی ریلیشن شپ کے تحت مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ چیرمین گوادر پورٹ اتھارٹی دوستین خان جمالدینی نے کہا کہ گوادر بندرگاہ اپنی محل وقوع اور جغرافیائی اہمیت کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا ہیکہ گوادر بندرگاہ کی تکمیل کے بعد عالمی تجارت کے حوالے سے گولڈن گیٹ وے ثابت ہوگا۔ جہاں بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ گوادر بندرگاہ پاکستان کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا اور یقینی طور پر ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا ۔ گوادر بندرگاہ کی ترقی یہاں کے عوام کی ترقی ہے۔ گوادر کی ترقی میں سب سے پہلا حق یہاں کے مقامی لوگوں کا ملے گا ، گوادر بندرگاہ کی ترقی پاکستان کو پورے خطے کا اقتصادی مرکز بنا دیگی ۔ جس سے ملکی معیشت ناقابل تسخیر بن جائیگی