|

وقتِ اشاعت :   April 15 – 2016

اسلام آباد: محمود خان اچکزئی نے پشتون شہریوں کو شناختی کارڈ کے اجراء کو روکنے پر قومی اسمبلی اجلاس میں شدید احتجاج کیا اور موقف اختیار کیا کہ حکومت نفرتوں کے بیج بونے سے گریز کرے ملک کے اندر پہلے ہی انتشار ہے مزید انتشار نہ پیدا کیا جائے ، پوائنٹ آف آرڈر پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغان مہاجرین کی آڑ میں پشتونوں کے شناختی کارڈ بھی بند کردیئے گئے ہیں ہر حلقہ انتخاب میں پٹھان رہتے یں ووٹ لینے کے بعد اراکین اسمبلی بھی ان کے مخالف بن جاتے ہیں ملک میں پگڑی اور داڑھی بھی ایک مسئلہ بن گئی ہے پوری دنیا کے خیالات ہماے ملک کے بارے میں خطرناک ہیں عالمی سازشیں ہمارے خلاف جاری ہیں لیکن حکومت ملک کے اندر انصاف پیدا کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں تمام افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں ان کا ریکارڈ بھی موجود ہے لیکن ان مہاجرین کی آڑ میں پٹھان قوم کے شناختی کارڈ روکنا ظلم ہے نواز شریف ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں بھی پشتون علاقوں کو نظر انداز کرچکے ہیں آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بھی پشتونوں کے شناختی روکنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ہمیں یہ کلچر ناقابل قبول ہے ملک میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو نزلہ پشتونوں پر پڑتا ہے یہ کلچر ختم ہونا چاہیے نادرا کے لوگ شناختی کارڈ کے اجراء کے لئے رشوت طلب کرتے ہیں اور ایک شناختی کارڈ کی رشوت دس ہزار روپے لیتے ہیں انہوں نے کہا کہ نادرا اراکین قومی اسمبلی کو تصدیق کرنے کا اختیار دے اور اراکین اسمبلی کی تصدیق والے شہریوں کو شناختی کارڈ دیئے جائیں انہوں نے کہا کہ حکومت روش بدلے ورنہ نتائج سنگین ہونگے