|

وقتِ اشاعت :   April 15 – 2016

تہران: ایران نے ملک میں مسلح بلوچ تنظیموں کی ان بڑھتی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں وہ ایران کے جنوب مشرق میں واقع علاقے بلوچستان میں پاسداران انقلاب اور سیکورٹی فورسز کو حملوں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے سیکورٹی، انٹیلجنس اور ایران اور پاکستان کے درمیان واقع صوبوں کے سینئر ذمہ داران کا اہم اجلاس طلب کرلیا ۔ یہ اجلاس آئندہ تین ہفتوں کے اندر تہران میں منعقد ہوگا۔ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی کا کہنا تھاکہ مذکورہ اجلاس کا مقصد مسلح تحریکوں کا سامنا کرنے اور سرحد کے مابین اسمگلنگ کی کارروائیوں روکنے کے لیے کوششوں میں تعاون کو یقینی بنانا ہے۔ پاسداران کی زمینی فورسز کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے ایک بیان کہاکہ مسلح تحریکوں کا سامنا کرنے اور سرحد کے مابین اسمگلنگ کی کارروائیوں روکنے کے لیے پاسداران انقلاب کی زمینی فورسز نے جن کے پاس ایران اور پاکستان کے درمیان سرحد کی سیکورٹی بھی ہے مشقیں کیں، ایرانی بلوچستان کے علاقے میر جاوہ میں مسلسل دوسرے روز بھی مشقیں کیں۔ مشقوں کا مقصد دراندازی کی کارروائیاں روکنا اور مسلح گروپوں کا مقابلہ کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ان مشقوں میں سیکورٹی کارروائیاں سرانجام دے رہے ہیں جن میں پاسداران انقلاب کے ہیلی کاپٹر وسیع پیمانے پر شریک ہیں اور دشمن کے ٹھکانوں پر میزائل بھی داغے جارہے ہیں۔بلوچی قبائل میں لابنگ کے لیے پاسداران انقلاب کے ڈپٹی جنرل کمانڈر جنرل حسین سلامی اور زمینی فورسز کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے بلوچستان میں سنی قبائل کے سرداروں اور عمائدین میں سے 30 شخصیات کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا۔دونوں فوجی ذمہ داران کا کہنا تھا کہ اس اجلاس کا مقصد “ملک کے جنوب مشرق میں مسلح افراد کے انسداد کے لیے قبائل اور عسکری فورسز کے درمیان تعاون شروع کرانا ہے۔